امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ گرمی کے زمانے میں کسی ضرورت سے بازار جا رہے تھے دور سے ایک بوڑھا نظر آیا پسینے میں شرابور چہرہ سرخ آنکھیں چڑھی ہوئی لکڑیوں کا گٹھا پیٹھ پر کمر جھکی ہوئی روزاعیؒ کو بہت ترس آیا دل میں سوچنے لگے کہ اس بوڑھے کی مدد کرنی چاہئے کمزور کی مدد کرنا تو باعث اجر و ثواب ہے پھر وہ مسلمان ہی کیا جو کسی پر رحم نہ کھائے اور مسلمان کے دکھ درد میں اس کے کام نہ آئے اسلام کی یہی تو تعلیم تھی جس نے لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیا تھا اور دیکھتے دیکھتے اونٹوں کے گلہ بان قوموں کی تقدیر کے مالک بن گئے باہمی اخوت، مروت اور محبت ایک آدمی تکلیف میں پڑ گیا تو سب بے چین و پریشان بالکل ایک بدن کے اعضاء کی طرح ۔
ایسا لگا جیسے رحم کے جذبات نے اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ کے قدموں کو جکڑ لیا درخت کی چھاؤں میں امام کھڑے ہو گئے اس ارادے سے کہ لکڑیوں کا گٹھا پیٹھ پر لادے ہانپتا کانپتا جب بوڑھا ان کے پاس سے گزرے گا تو اسے روک کر اس کی مدد کرنے کے لئے اس سے اجازت طلب کریں گے لیکن جب بوڑھاقریب آیا اور امام اوزاعیؒ نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا تو وہ حیران رہ گئے کہ یہ کوئی معمولی لکڑہارا نہیں ہے بلکہ بلخ کے سابق حکمران سید الطائقہ سلسلہ طریقت کا نامور ولی حضرت سیدنا ابراہیم بن ادھم رحمتہ اللہ علیہ کپڑے پسینے میں تربتر، پاؤں گرد و غبار میں اٹے ہوئے جب اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ کے قریب پہنچے تو ادب سے امام نے خواجہ ابراہیم بن ادھم ؒ کو سلام کیا اور عرض کیا حضرت! آپ کیوں یہ تکلیف اٹھا رہے ہیں ماشاء اللہ آپ کے خادم ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں اور سب آپ پر جان چھڑکتے ہیں اور سب کے ہوتے ہوئے آپ لکڑی کا گٹھا کمر پر لاد کر مارے مارے پھر رہے ہیں ابراہیم بن ادھم ؒ نے درخت کے سائے میں گٹھا اتار کر رکھ دیا اور فرمایا! اوزاعیؒ ! مجھے یہ بات معتبر ذرائع سے معلوم ہوئی ہے کہ جو آدمی حق حلال کی روزی کمانے میں محنت کشی اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیئے جنت واجب کر دیتا ہے۔ اوزاعیؒ ! مجھے محنت کر کے حلال روزی کمانے دو کہ خدا کی رضا کے سوا میرا کوئی مقصود نہیں۔ کوئی مطلوب نہیں۔



















































