طارق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مدینہ منورہ کے لئے روانہ ہوئے اور جب ہم مدینہ منورہ کی چار دیواری کے قریب پہنچےتو ہم نے اتر کر لباس بدلے۔ اچانک ایک شخص دو چادروں میں ملبوس تشریف لایا اور اس نے سلام کیا۔ پوچھا کہاں کا قصد ہے؟ہم نے کہا کہ ہم مدینہ جانا چاہتے ہیں۔ اس نے پوچھا تمھیں مدینہ میں کیا کام ہے؟ ہم نے کہا کہ ہم مدینہ میں کھجوریں خریدنا چاہتے ہیں تا کہ ہم کھائیں۔
ہمارے ساتھ ایک پردہ نشین عورت تھی اور ایک سرخ دھاری کا اونٹ تھا۔ پھر اس شخص نے پوچھا کیا تم اپنے اس اونٹ کو فرخت کرتے ہو۔ ہم نے کہا کہ اتنی قیمت اور اتنے صاع کھجور کے بدلے فروخت کرتا ہوں۔ جو قیمت ہم نے بتائی تھی اس نے اس میں کوئی کمی نہیں کی اور اونٹ کی نکیل پکڑ کر وہ شخص روانہ ہو گیا۔ جب وہ شخص ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا تو ہم نے کہا کہ یہ ہم نے کیا کیا کہ اپنا اونٹ ایسے شخص کے ہاتھ فروخت کر دیا جسے ہم جانتے تک نہیں اور نہ ہم نے اس سے قیمت لی۔اس پر اس عورت نے جو ہمارے ساتھ تھی کہا تم کوئی رنج و غم نہ کرو۔ خدا کی قسم میں نے اس شخص کا چہرہ دیکھا ہے وہ ہرگز تمھارے ساتھ بدمعاملگی نہ کرے گا۔ میں نے کسی کی صورت چودھویں رات کے چاند کی مانند اس سے زیادہ مشابہ نہیں دیکھی ہے۔ میں اس کی طرف سے تمھارے اونٹ کی قیمت کی ضامن ہوں۔ اس لمحہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں اور یہ تمھاری کھجوریں ہیں۔ انھیں کھاؤ اور وزن کرواور قیمت پوری کرو۔



















































