ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

تحت الثری سے عرش معلی تک

datetime 3  دسمبر‬‮  2016 |

حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کا اصل نام “حسن ” ہے اور آپ 535 جری میں خراسان کے علاقے سنجران میں پیدا ہوئے .آپ رحمتہ اللہ علیہ والد کی طرف سے حسینی جبکہ والدہ کی طرف سے حسنی سید ہیں .آپ رحمتہ اللہ علیہ نے بہت چھوٹی عمر میں ہی قرآن کریم حفظ کر لیا تھا . آپ رحمتہ اللہ علیہ کی عمرچودہ سال تھی جب آپکے والد سید غیاث الدین رحمتہ اللہ علیہ انتقال فرما گئے .

والدہ کی اجازت سے آپ رحمتہ اللہ علیہ علم کے حصول کیلئے نیشا پور چلے گئے . وہاں اس وقت کے بہت بڑے مفسر اور محدث حضرت سید حسام الدین بخاری رحمتہ اللہ علیہ سے سند حاصل کی .تب آپ رحمتہ اللہ علیہ نے سنا کہ قریب ہی کسی گاؤں میں حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ رہتے ہیں جو اپنے وقت کے قطب ہیں .چنانچہ آپ رحمتہ اللہ علیہ جب حضرت عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ رحمتہ اللہ علیہ کے چہرے پر پہلی نظر پڑتے ہی مرشد نے فرمایا” حسن ! میں تمہارا ہی انتظار کر رہا ہوں . وقت کم ہے ، جلدی آؤ اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے تمہارا جو حصہ میرے پاس ہے وہ لے لو .“سونے جیسی قیمتی دھات بھی پہننے کے قابل تب بنتی ہے جب اسے آگ میں تپایا جائے ، کاریگر کے قلم کی تکلیف برداشت کرے ،چنانچہ آپ رحمتہ اللہ علیہ مرشد کی خدمت میں رہنے لگے اور مرشد کے تلقین کئے ہوئے مجاہدات سے گزرنے لگے .کچھ دن بعد مرشد نے بلایا اور پوچھا ،تمہاری نگاہ کی رسائی کہاں تک ہے ؟عرض کیا ،تحت الثری سے عرش معلی تک ..فرمایا ،ابھی کمی ہے .کچھ عرصے بعد پھر پوچھا ،عرض کیا ،عرش معلی سے آگے دیکھتا ہوں اور حجابات کی عظمت اور انوارو تجلیات میں گم ہوں .فرمایااب تمہارا کام ہو گیا

.خود حضرت غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ،شیخ نے مجھے خلافت اور اجازت تب عطا فرمائی جب میں زمین کے نیچے تحت الثری سے لیکر عرش معلی تک سب کچھدیکھ سکتا تھا .شیخ نے اجازت دے کر فرمایا ،اب تم مدینہ جاؤ ، تمہیں کس علاقے میں بہیجنا ہے ، یہ فیصلہ مدینہ میں کیا جائے گا .چنانچہ حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ مدینہ منورہ چلے گئے اور چھ ماہ تک سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں رہے .

وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی سعادت حاصل کی ، کریم آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،تم معین الدین ( دین کے مددگار ) اور مشائخ کے قطب ہو ، جاؤ اور ہندوستان کی سرزمین کو کفر سے پاک کرو . اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے .حسن سنجری رحمتہ اللہ علیہ کو بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ” معین الدین ” کا لقب عطا ہوا اور کیا شان ہےاس لقب کی کہ

آج بھی دنیا آپ رحمتہ اللہ علیہ کو” خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ ” کے نام سے جانتی ہے .ملک شام کے راستے آپ رحمتہ اللہ علیہ عراق آئے اور حضرت سید عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ ( غوث الاعظم ) سے ملاقات کی . یہ غوث الاعظم رحمتہ اللہ علیہ کی عمر کے آخری سال تھے .بغداد شریف میں ہی مسجد ابو اللیث سمرقندی میں حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت معین الدین رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھ پر

بیعت کی اور پھر تمام عمر حضوری میں گزار دی .عراق ، ایران ، افغانستان اور پھر پشاور کے رستے آپ رحمتہ اللہ علیہ لاہور تشریف لائے اور حضرت سید علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ ( داتا صاحب ) کے مزار پر حاضری دینے آئے اور چالیس روز تک چلہ کس رہے اور وہ روحانی فیض پائے کہ بے اختیار کہہ اٹھے ..

گنج بخش ، فیض عالم ، مظہر نور خدا ..
ناقصاں را پیر کامل ، کاملاں را راہنما …

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…