شہر ایلیا دریا کے کنارے آباد تھا، اللہ تعالیٰ نے وہاں کے رہنے والوں کے صبر کا امتحان لینے کی غرض سے ان پر یہ پابندی لگائی کہ وہ ہفتے کے تمام دن مچھلی کا شکار کرسکتے ہیں سوائے ہفتے کے دن کے۔ شہر والوں کے لیے یہ شرط معمولی تھی لیکن جلد ہی انھیں اندازہ ہو گیا کہ مچھلیاں تو بہت ہوشیار ہیں۔ ہفتے کے چھ دن مچھیرے جال لگائے بیٹھے رہتے ہیں، لیکن کسی کے جال یا کانٹے میں ایک مچھلی بھی نہ پھنستی۔
اب تو وہ بہت پریشان ہوئے، کھانے کو نہ بیچنے کو مچھلی ہاتھ آتی، ان کی حالت روز بروز بری ہوتی جا رہی تھی۔ آخر شہر ایلیا کے دانا بزرگ سر جوڑ کر بیٹھے اور ایک حل ڈھونڈ نکالا۔ اب ہر جمعے کی شام وہ ساحل پر گڑھے کھود ڈالتے اور دریا تک نالیاں بنا لیتے۔ ہفتے کے روز مچھلیاں پانی کے ساتھ ان گڑھوں میں آ کر پھنس جاتیں، ماہی گیر نالیاں بند کر دیتے اور اتوار کو انھیں پکڑ کر کھاتے اور فروخت کرتے۔
کہا جاتا ہے کہ وہ چالیس سال تک یہ نافرمانی کرتے رہے۔ اللہ نے چونکہ انھیں چھوٹ دی ہوئی تھی اس لیے وہ اسے حق سمجھتے رہے، یہاں تک کہ حضرت داؤد علیہ السلام کا زمانہ آ پہنچا، آپ نے انھیں روکنے کی بہت کوشش کی، انھیں عذابِ الٰہی سے ڈرایا لیکن وہ باز نہ آئے۔
’’ بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی تھی ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی تھی۔
احکامات الٰہی کی نافرمانی، بلکہ خدا کو دھوکہ دینے کی کوشش، مقصد صرف ذاتی فائدہ حاصل کرنا تھا، لیکن اس کا انجام کیا ہوا۔
’’ پھر جس کام سے انھیں منع کیا گیا وہ اس کام میں حد سے بڑھ گئے تو ہم نے ان کو کہا کہ تم ذلیل و خوار بندر ہو جاؤ۔‘‘
مچھلی کے گوشت نے ان کے پیٹ میں ایسی اذیت ناک صورت پیدا کی کہ ان کی جلد نے بندروں کے کھال کی شکل اختیار کی اور ان کی صورتیں بندروں کی شکل میں بدل گئیں لیکن اس طرح کہ ہر مرد، عورت اور بچہ پہچانا جاتا تھا کہ کون ہے۔ بوڑھے لوگ سور کی شکل میں دکھائی دینے لگے، کہا جاتا ہے کہ یہ پوری قوم تین دن کے اندر اندر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر ختم ہوئی



















































