حضرت مولانا اسماعیل شہیدؒ کے امتحان کی غرض سے ایک شخص آیا۔ اس نے سنا تھا کہ آپ بڑے جوشلے اور تیز طبع ہیں۔ دہلی کی جامع مسجد میں مولانا تشریف رکھتے تھے۔ وہ آیا اور مجمع میں باآواز بلند پوچھا ’’میں نے سنا ہے کہ آپ حرامی ہیں؟‘‘ مولانا نے فرمایا تم سے کسی نے غلط کہا ہے میری ماں کے نکاح کے گواہ ابھی زندہ ہیں۔ اگر یقین نہ ہو تو تصدیق کرا دوں‘‘۔ وہ شخص قدموں میں گر پڑا اور کہنے لگا ’’میں تو امتحان کرتا تھا کہ آپ کی تیزی تکبر سے تو نہیں ہے لیکن معلوم ہوا کہ سارا غصہ اور تکبر اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے‘‘۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































