ایک دفعہ حضرت عیسی علیہ السلام کے ہمراہ تین شخص جا رہے تھے کہ راستے میں ایک سونے کی اینٹ نظر آئی۔ آپ نے اس کو دیکھ کر فرمایا، دیکھو یہ دنیا ہے جو موجب فساد ہے اس کے نزدیک ہرگز نہ جانا۔
ان لوگوں نے آگے جا کر آپ سے رخصت مانگی کہ اینٹ کا خیال تینوں کے دلوں کو بیتاب کر رہا تھا۔ وہاں پہنچ کر اینٹ کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا انتظام کرنے لگے۔ ان میں سے دو تو اینٹ کے توڑنے میں مصروف ہو گئے اور تیسرے شخص کو روٹی لانے کے لئے بھیج دیا۔ اس شخص کی نیت میں خلل آیا کہ کیوں نہ میں اکیلا ہی اینٹ کا مالک بن جاؤں۔ چنانچہ اس نے ان دونوں کو ہلاک کرنے کو کھانے میں زہر ملا دیا۔ ادھر اندونوں نے اس کی غیرحاضری میں صلاح کی کہ کیوں نہ اینٹ کے تین ٹکڑوں کی بجائے دو ٹکڑے ہم آپس میں بانٹ لیں اور جب وہ شہر سے کھانا لائے تو اسے مار ڈالیں۔ وہ شخص زہریلا کھانا لے کر شہر سے آیا تو انہوں نے اس کو مار ڈالا۔ اس کو مار ڈالنے اور اینٹ تقسیم کرنے کے بعد وہ کمال اطمینان سے کھانا کھانے بیٹھے۔چنانچہ ان دونوں نے بھی زہر کے اثر سے فوراً وہیں جانے دے دی۔ آپ واپس ہوئے تو تینوں لاشوں کو دیکھ کر تاسف کیا اور کہا کہ اے کم بختو! آخر تم نے اسی دنیا کی طرف توجہ کی، جس سے تمہیں اس قدر تاکید سے منع کیا اور اس نتیجہ کو پہنچے۔



















































