حضرت عمرؓ کے دو صاحبزادے عبداللہ اور عبیداللہ ایک مہم میں عراق گئے۔مہم سے فارغ ہو کر بصرہ آئے۔ جہاں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ گورنر تھے۔ انہوں نے اپنے دوست کے بیٹوں کا خیرمقدم کیا اور خوب خاطر مدارات کی۔ جب مدینہ روانہ ہونے لگے تو ابوموسیٰؓ نے کہا ’’بھتیجو! میرے پاس صدقے کا کچھ مال ہے۔ جس
کو امیرالمومنینؓ کی خدمت میں بھیجنا ہے۔ یہ مال آپ لے لیں اورسامان تجارت خرید لیں اور مدینہ جا کر فروخت کر دیں اور جو نفع حاصل ہو، اپنے لئے رکھ لیں اور اصل مال امیر المومنینؓ کو دے دیں‘‘۔دونوں صاحبزادگان نے جواب دیا ’’ایسا نہ ہو امیر المومنینؓ خفا ہوں‘‘۔ گورنر بصرہ نے کہا ’’میں امیر المومنین کو اس سے متعلق اطلاع دے دیتا ہوں‘‘۔ مدینہ آ کر سامان تجارت فروخت کیا گیا اور اس سے خاصہ نفع حاصل ہوا۔ حسب ہدایت وہ
اصل مال لے کر امیرالمومنین کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا ’’ابا جان! یہ اصل مال ہے اور یہ ہمارا منافع ہے‘‘۔ امیر المومنین نے پوچھا لیکن یہ بتاؤ کہ ابوموسیٰ نے کل فوج کے ساتھ یہی معاملہ کیا ہے؟ بیٹوں نے عرض کیا ’’نہیں ابا جان۔‘‘ آپ نے فرمایا ’’تو اس کا یہی مطلب ہوا کہ میرے بیٹے سمجھ کر تمہارے ساتھ
یہ رعایت کی ہے‘‘۔ بیٹوں نے کہا ’’جی ہاں! امیر المومنین نے فرمایا ’’تو اصل رقم اور منافع دونوں بیت المال میں جمع کرو‘‘۔



















































