ایک بار ایک بدو حضوؐر کی خدمت میں آیا اور عرض کیا ’’یا رسولؐ اللہ! مجھ میں چار بڑی برائیاں ہیں۔ میں چوری کرتا ہوں، شراب پیتا ہوں، غیر عورتوں کے پاس جاتا ہوں، جھوٹ بولتا ہوں۔ میں ان میں سے آپؐ کی خاطر ایک برائی چھوڑ سکتا ہوں جو آپؐ فرمائیں۔نبیﷺ نے فرمایا ’’تو جھوٹ بولنا چھوڑ دے‘‘ بدو اسی پر بیعت کر کے چلا گیا۔ دوسرے دن حاضر ہو کر عرض کیا ’’یا رسولؐ اللہ! میں سمجھتا تھا کہ میں نے آسان برائی چھوڑنے پر بیعت کی ہے لیکن اسی کی بدولت اللہ نے فضل فرمایا اور میں اپنی ساری برائیوں سے بچ گیا
میں چوری کرنے چلا۔ خیال آیا کہ کل نبیﷺ پوچھیں گے کہ چوری تو نہیں کی؟ میں جھوٹ بول نہیں سکتا تو پھر سزا میں ہاتھ کاٹا جائے گا تو چوری سے باز آیا۔پھر شراب پینے چلا خیال آیا اگر حضوؐر پوچھیں گے کہ شراب پی؟ تو جھوٹ بول نہیں سکتا پھر سزا میں کوڑے پڑیں گے اور وہ مجھ سے برداشت نہ ہوں گے تو میں نے شراب بھی نہ پی اسی طرح غیر عورتوں کے پاس جاتے وقت خیال آیا تو اس کی سزا سے لرز گیا اور گھر چلا آیا۔ اس طرح میری چاروں برائیاں چھوٹ گئیں نبیﷺ اور جو صحابہ تشریف فرما تھے سن کر بہت خوش ہوئے۔



















































