عضدالدولہ نے ڈاکوؤں کے ایک گروہ کی شکایت کی گئی جو کرد قوم کے تھے۔ یہ لوگ لوٹ کھسوٹ کرتے تھے اور پہاڑی گھاٹیوں میں چھپ جاتے تھے (اس لئے قابو پانا مشکل ہو گیا) تو عضدالدولہ نے ایک تاجر کو بلایا اور اس کو ایک خچر دیا جس پر دو صندوق لدے ہوئے تھے۔ ان صندوقوں میں زہر ملا کر حلوا بند کیا گیا
تھا جس میں نفیس خوشبو ملا دی گئی تھی اور اس حلوے کو بہت خوبصورت برتنوں میں رکھا گیا تھا اور اس کو کچھ دینار عطا کئے اور اس کو حکم دیا کہ قافلہ کے ساتھ روانہ ہو جائے اور یہ ظاہر کرے کہ ان میں ان اطراف کے بعض حکام کی عورتوں کیلئے بطور ہدیہ شاہی حلوہ بھیجا جا رہا ہے۔
تاجر نے تعمیل کی اور قافلہ کے آگے آگے روانہ ہو گیا (جب قافلہ راہ زنوں کی زد میں پہنچ گیا) تو ڈاکو لوگ آ پڑے اور انہوں نے قافلہ کا سب مال و متاع قبضہ میں کیا اور ان میں سے ایک شخص نے خچر پر قبضہ کیا اور جماعت کے ساتھ اس کو بھی پہاڑ پر چڑھا لے گیا اور غریب مسافر ننگے کھڑے رہ گئے۔ پھر خچر والے ڈاکو نے جب صندوق کھولا تو ان میں سے حلوہ ملا جس کی خوشبو پھیل گئی اور بہت نفیس خوشبو تھی وہ اس
سے ڈرا کہ اس کو صرف اپنے پاس چھپایا نہیں جا سکتا تو اس نے تمام ساتھیوں کو آواز دی۔ ان سب نے آ کر ایسی نفیس چیز دیکھی جو اس نے پہلے نہیں دیکھی تھی، یہ سب بھوکے تھے۔ اس پر سب کے سب ٹوٹ پڑے اور خوب کھایا۔ بس کھا کر لوٹے ہی تھے کہ سب کے سب ہلاک ہو گئے۔ پھر تو سب قافلہ والوں نے دوڑ کر ان کے اموال و متاع پر قبضہ کر لیا اور ان کے ہتھیار بھی لے لئے اور جس قدر لوٹا ہوا مال تھا سب کا سب
وصول کر لیا۔ اس سے زیادہ عجیب ترکیب ہمارے سننے میں نہیں آئی جس نے ظالم اور مفسدوں کی قطعاً بیخ کنی ہو گی اور مفسدین کے کانٹے ہمشہ کیلئے کاٹ دیئے گئے ہوں۔



















































