امیر المومنین مہدی نے ایک نیا محل تعمیر کروایا۔ خلیفہ نے فرمایا’’کسی شخص کو اس محل کے نظارے سے منع نہ کیا جائے۔ ناظرین یا تو دوست ہوں گے یا دشمن۔ اگر دوست ہیں تو خوش وخرم ہوں گے۔ اور ہمیں دوستوں کی خوشدلی مطلوب ہے او راگر دشمن ہیں تو رنج اٹھائیں گے اور دل کوفتہ ہوں گے او رہر شخص کی یہی مراد ہوتی ہے کہ دشمن کو رنج پہنچے۔
نیز شاید وہ کوئی عیب ڈھونڈیں اور کوئی خلل کی بات بتائیں اور اس سے وقوف پانے پر اس خلل کا تدارک کیا جا سکے اور نقص کو دور کر دیا جائے۔ ایک فقیر نے کہا ’’اس محل میں دو نقص ہیں ایک یہ کہ آپ اس میں ہمیشہ نہ رہیں گے اور دوسرا یہ کہ محل ہمیشہ نہ رہے گا‘‘۔ خلیفہ اس کلام سے اس قدر متاثر ہوا کہ وہ محل غرباء اور فقراء کے لئے وقف کر دیا۔



















































