ایک بادشاہ کو ریاح خارج نہ ہونے کے باعث سخت تکلیف رہتی تھی شکم ہمیشہ بھرا رہتا تھا۔ شاہی طبیبوں نے ہر چند علاج معالجہ میں بہت کوشش کی۔ لیکن بجائے تحفیف کے مرض تقویت پکڑتا گیا۔ آخر کار اطبائے دربار سے مایوس ہو کر ایک گرانقدر انعام اس مرض کے دفعیہ کے لئے عوام میں مشتہر کر دیا۔ رعیت کے طبیبوں نے بہت کچھ اپنی اپنی حکمت آزمائی کی
لیکن سب بے سود، جوں جوں مرض بڑھتا جاتا تھا، موعودہ و مشتہرہ رقم انعام بھی بڑھتی جاتی تھی۔ حتیٰ کہ انعام کی مقدار نصف سلطنت تک مقرر کر دی گئی۔ لیکن پھر بھی اس انعام کے حاصل کرنے میں کوئی شخص کامیاب نہ ہو سکا۔ درد سر کا علاج تاج سے نہیں ہوتا۔ ’’ایک خدارسیدہ فقیر کو بھی یہ حال معلوم ہوا۔ اس نے بادشاہ کو کہلا بھیجا کہ پوری سلطنت دے دے تو میں علاج کرنے کو تیار ہوں‘‘۔ بادشاہ نے ایسے تکلیف دہ مرض کی موجودگی میں بادشاہت کے مقابلے میں بحالت صحت محنتو مزدوری کرنے کو بدرجہا ترجیح دی۔ اس لئے بیمار بادشاہ سے تندرست کتا اچھا ہے اور پوری سلطنت دینے پر رضامند ہو گیا۔ فقیر نے دعا کی اور بظاہر کوئی دوا بھی دے دی۔ بادشاہ کو ریاح خارج ہونے سے شفا مطلق حاصل ہو گئی اور اس موذی مرض سے کلی طور پر نجات پائی تو حسب وعدہ فقیر کو تاج و تخت سنبھالنےکے واسطے بلایا۔ فقیر نے جواب میں کہلا بھیجا کہ اے بادشاہ! یہ تاج و تخت تجھی کو مبارک ہو۔ میں ایسی بے حقیقت اور ناکارہ چیز کو لینا نہیں چاہتا کہ جس کی قیمت صرف ’’ہوائے شکم‘‘ کا خارج ہونا ہے۔



















































