ایک شخص جنگل میں بھیڑوں کو اکیلے چرتا چھوڑ کر کسی کام کے واسطے شہر میں آ گیا۔ جہاں اتفاق سے بڑا بھائی اس کو مل گیا۔ اس نے دریافت کیا کہ جنگل میں بھیڑوں کو کس کے حوالے کر کے آئے ہو؟ اس نے کہا توکل الٰہی چھوڑ آیا ہوں۔ بڑے بھائی نے کہا کہ تم نے یہسخت غلطی کی۔ چھوٹے بھائی نے کہا کہ اللہ کے توکل پر بھیڑوں کے چھوڑ آنے کو غلطی بتلانا سخت بے ادبی ہے۔ ایسا مت کہو۔ بڑے بھائی نے کہا کہ کم بخت اگر
بھیڑیں اللہ کے توکل پر چھوڑ آیا ہے تو بھیڑیے بھی تو اللہ کے توکل پر ہی پھر رہے ہیں۔ تم نے ’’توکل‘‘ کے مفہوم کو نہایت غلط طور پر استعمال کیا ہے۔توکل اختیار کرتے وقت رسولؐ اللہ کے فرمان کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اونٹ کو اکیلا چرنے کے لئے گھٹنا باندھ کر توکل پر چھوڑو اور ایسے موقعوں پر مکمل العمل تدبیر سے درگزر نہ کرو۔



















































