ابوعبداللہ شیخ ابن بطوطہ اپنے سفرنامہ میں لکھتے ہیں کہ شیراز کی سیاحت سے فارغ ہو کر میں خوارزم گیا۔ وہاں حضرت شیخ بدرالدین اعظمؒ سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔ شیخ کے فضل و کمال کی بڑی شہرت تھی
اور وہ شاہی جامع مسجد کے امام اور خطیب تھے۔ جمعہ کے دن میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ جب خطبہ اور نماز کا وقت ہوا تو شیخ منبر پر گئے۔ اس موقع پر سلطان کے ایک معتمد نے حاضر ہو کر کہا اے شیخ آج خطبہ اور نماز میں تاخیر کیجئے یہ سلطان کا حکم ہے۔ یہ الفاظ سن کر فرطِ غضب سے شیخ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ آپ نے فرمایا نماز اللہ کے لئے یا سلطان کے لئے؟ یہ کہہ کر حسب معمول خطبہ پڑھا اور نماز پڑھانے لگے۔ ایک رکعت کے بعد سلطان آیا اس وقت تمام مسجد نمازیوں سے پُر تھی۔سلطان سمٹ کر ایک صف کے گوشے میں کھڑا ہو گیا اور بڑی تکلیف سے نماز ادا کی جب نماز ہو چکی تو سلطان نے جا کر شیخ کا ہاتھ پکڑ لیا اور ان کی حق پرستی کا شکریہ ادا کیا اور اپنی غلطی کیلئے معذرت کی۔ شیخ نے فرمایا اسلام کا مقصد ہر چھوٹے بڑے کو ایک سطح پر لانا ہے۔ اس جگہ ادنیٰ و اعلیٰ کا کوئی سوال نہیں۔ سلطان نے جزاک اللہ کہا اور شیخ کا ہاتھ چوم لیا۔



















































