جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

خزانے کا خواب

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

ایک غریب آدمی کا کوئی مالدار رشتے دار مر گیا۔ اس کا اس غریب کے علاوہ کوئی اور وارث نہ تھا۔ چنانچہ مرنے والے کی تمام دولت اس کے قبضے میں آ گئی۔ چونکہ اس شخص کو بالکل غیر متوقع طور پر اتنی کثیر دولت کسی محنت مشقت کے بغیر مل گئی، لہٰذا اس نے خوب اللے تللے کئے، یہاں تک کہ تمام دولت فضول کاموں میں برباد کر کے پھر بھوکے کا بھوکا اور ننگے کا ننگا رہ گیا۔ سچ ہے،

میراث کا مال رہا نہیں کرتا۔ جس طرح وہ مرنے والے سے الگ ہوا، اسی طرح یہاں سے بھی نکل گیا خود میراث پانے والے کو بھی ایسے مال کی قدر نہیں ہوتی جو بے محنت ہاتھ آ جاتا ہے اے عزیز، تجھے بھی جان کی قدر اس لئے نہیں کہ حق تعالیٰ نے مفت بخشی ہے۔قصہ مختصر اس شخص کے ہاتھ سے سب مال، جائیداد نکل گیا۔ الوؤں کی طرح ویرانوں میں ڈیرا لگایا۔ ایک دن بارگاہ الٰہی میں درخواست کی کہ اے اللہ، تو نے جو کچھ مجھے عطا فرمایا تھا، وہ باقی نہیں رہا۔ میرا جو حال ہے وہ تجھ پر خوب روشن ہے لہٰذا اب مجھے زندگی بسر کرنے کیلئے سروسامان عطا کر ورنہ موت کے فرشتے کو روانہ کر کہ وہ آئے اور میری روح قبض کر کے اس جھنجھٹ سے ہمیشہ کے لئے نجات دے۔ اس گریہ زاری کے دوران اس نے بہت ہاتھ پاؤں مارے، سینہ کوبی کی۔ حقیقت میں اس محب مال کو ایسے زر کی طلب تھی جو بے محنت حاصل ہو، لیکن خدا کا دروازہ کھٹکھٹانے والا کبھی مایوس نہیں جاتا۔ اس شخص نے راب کو خواب میں ایک فرشتہ دیکھا کہ کہتا ہے، اے خوش نصیب! یہاں پڑا کیا کرتا ہے؟ خدا نے تیری آہ و فغاں سن لی ہے۔ مصر میں ایک بڑ ابھاری خزانہ تیرا انتظار کر رہا ہے۔ فلاں بستی کے فلاں محلے کے ایک مکان میں وہ بیش قیمت خزانہ دفن ہے

تو بغداد سے ہوتا ہوا فوراً مصر میں پہنچ۔ بس تیرا کام ہو گیا۔یہ خواب دیکھ کر اس مفلس کی جان میں جان آئی۔ کمر ہمت باندھی اور امید کے سہارے کہ فرشتے نے خزانے کا پتا نشان دیا ہے بغداد سے مارا مارا منزلوں پر منزلیں طے کرتا ہوا آخر کار مصر میں داخل ہوا لیکن واہں پہنچتے پہنچتے جو پیسہ دھیلا پاس تھا، وہ بھی خرچ ہو گیا اور بھوک نے بے تاب کیا۔ کچھ دیر تو ضبط سے کام لیا

مگر جب بھوک کے ہاتھوں صبر و ضبط بھی رخصت ہوا تو بھیک مانگنے کا ارادہ کیا۔ مگر شرم و حیا نے دامن پکڑا لیکن بھوک نے بدحواس کر ڈالا۔ دل میں کہا، یہ بہتر ہے کہ رات کے اندھیرے میں منہ چھپا کر بازار میں نکلوں تاکہ بھیک مانگنے میں شرم نہ آئے۔ چیخنے چلانے والے گداگر کی طرح دور سے صدا دوں تاکہ کسی کو ترس آئے اور وہ اپنے مکان پر سے کچھ میرے لئے پھینک دے۔اسی سوچ بچار میں باہر نکلا

اور ادھر ادھر ہچکچاتا، جھجکتا پھرنے لگا کئی مرتبہ ایسا موقع آیا کہ کسی سے سوال کر سکتا تھا، لیکن پھر شرم اور جھجک ہاتھ پکڑ لیتی تھی۔ غرض ایک پہر رات تک یہی کیفیت رہی۔ قدم کبھی آگے بڑھاتا، کبھی پیچھے ہٹاتا۔ پھر اپنے دل سے پوچھتا، بول کیا کہتا ہے؟ ہاتھ پھیلاؤں یا فاقے ہی سے سو رہوں؟ اتفاق سے اس زمانے میں شہر کے لوگ چوروں کے ہاتھوں نہایت پریشان اور نالاں تھے۔

اندھیری راتوں میں ایک طرف چوروں کی سرگرمیاں بڑھ جاتیں تو دوسری طرف شہر کا کوتوال بھی سپاہیوں کو لے کر گشت کرنے نکل آتا۔ خلیفہ وقت نے حکم دے رکھا تھا جو مشکوک آدمی رات کی تاریکی میں بلاوجہ گلی کوچوں میں پھرتا دکھائی دے اس کا ہاتھ کاٹ ڈالو، خواہ وہ میرا عزیز ہی کیوں نہ ہو۔ خلیفہ کے امراء اور وزراء نے بھی شکایتیں کی تھیں کہ کوتوال کا انتظام ناقص ہے۔ اس سبب سے چور، اُچکے اور اُٹھائی گیرے ہوائی دیدہ ہو گئے ہیں۔

یہ شکایتیں سن سن کر خلیفہ نے کوتوال پر عتاب کیا کہ چند دن کے اندر اندر ان سب بدمعاشوں کو گرفتار کرو ورنہ شہر میں چوری چکاری کی جس قدر وارداتیں ہوں گی، ان سب کی سزا تمہیں دی جائے گی۔ کوتوال نے عرض کیا کہ آئندہ ایسی کوئی شکایت خلیفہ کے سننے میں نہ آئے گی۔غرض کوتوال نے سپاہیوں کی نفری بڑھا دی اور ساری ساری رات شہر کے گلی کوچوں میں گشت کرنے لگا۔ چوروں نے یہ حال دیکھا تو اپنی اپنی جگہ دبک گئے۔

کسی کو باہر نکلنے اور واردات کرنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔ یہ بے چارہ خزانے کی فکر میں بغداد سے چل کر مصر آنے والا، ان حالات سے بالکل بے خبر رات کے اندھیرے میں گھوم پھر رہا تھا کہ کسی طرح پیٹ کے دوزخ کی آگ بجھائے کہ اتنے میں کوتوال نے آن کر دبوچ لیا۔ اتنا مارا کہ ہڈی پسلی ایک کر دی۔ جب خوب ادھیڑ ہوچکا تو ڈپٹ کر پوچھا:’’سچ بتا کون ہے تو؟ کہاں سے آیا ہے اور کیوں اس وقت شہر میں گھوم رہا ہے؟‘‘

اس بھوکے پیاسے شخص نے روتے ہوئے جواب دیا، خدا کے واسطے مجھے مت مارو۔ اصل حقیقت ابھی بتاتا ہوں۔کوتوال نے کہا ’’جلد بتا ورنہ ابھی تیرا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ معلوم ہوتا ہے تو اس شہر کا رہنے والا نہیں۔ کسی اور علاقے کا بدمعاش ہے‘‘۔اس نے خدا رسولؐ کی قسمیں کھاتے ہوئے کہا ’’میں چور ہوں نہ جیب کترا، اچکا نہ اٹھائی گیر، ڈاکو نہ قاتل، میں تو اس شہر میں ایک مسافر کی حیثیت سے آیا ہوں

اور بغداد میں میرا گھر ہے‘‘ اور پھر اس نے اپنا خواب اور خزانے کا ذکر کیا۔کوتوال کو اس کی باتوں میں سچائی کی بُو آئی۔ تب اس نے حیران ہو کر کہا کہ ’’ارے نادان مان لیا کہ تو چور ہے نہ ڈاکو لیکن محض ایک خواب پر اپنی حرص و ہوس کے باعث تو نے اپنے آپ کو جوکھوں میں ڈالا اور اتنی صعوبتیں اٹھاتا ہوا بغداد سے چل کر یہاں آیا۔ اب میری بات غور سے سن۔ تجھے تو بغداد میں مصر کا خزانہ دکھائی دیا

اور میں نے اس شہر مصر میں کئی مرتبہ یہ خواب دیکھا کہ بغداد کے فلاں محلے اور فلاں مکان میں بہت بڑا خزانہ دفن ہے۔ بلکہ خواب میں مجھے یہاں تک بتایا گیا کہ خزانہ اس مکان کے فلاں حصے میں دبا ہے۔ جا اور نکال لے۔ لیکن میں نے آج تک بغداد جانے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ میں اپنے دل میں کہتا تھا کہ مجھے آخر اس خزانے کے لئے بغداد جانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ خزانہ تو میرے ہی گھر میں موجود ہے۔

یہاں مجھے کس چیز کی کمی ہے۔ میں اپنے خزانے پر آرام سے بیٹھا ہوا ہوں۔مسافر نے جب کوتوال کی یہ باتیں سنیں تو خوشی کے مارے دیوانہ ہو گیا۔ سارا رنج اور تکلیف جاتی رہی۔ جی میں کہا کہ اس قدر مار کھانے کے بعد نعمت کا ملنا موقوف تھا۔ وہ خزانہ تو خود میرے مکان میں موجود ہے۔ کوتوال نے اسے بغداد کے جس محلے اور جس مکان کا پتہ بتایا تھا وہ خود اسی شخص کا مکان تھا۔ وہ کوتوال سے کہنے لگا:

’’خدا کا شکر ہے کہ آپ کی بدولت عجیب و غریب دولت ہاتھ آئی۔ وہ سب میرے وہم اور بدعقلی کا اندھاپن تھا کہ میں نے اپنے آپ کو مفلس اور محتاج جانا۔ اب خواہ آپ مجھے بیوقوف کہیں یا عقل مند، جو میں چاہتا تھا وہ مجھے یہیں ملا‘‘۔اس کے بعد وہ شخص سجود و رکوع کرتا اور حمد و ثناء کے گیت گاتا، مصر سے بغداد واپس چلا۔ تمام راستے اس حیرت سے مست اور بے خود رہا۔ کہ اللہ اللہ ! میری طلب اور خواہش کی راہ کون سی تھی

اور رزق مجھے کیا عطا ہوا۔ مجھے امیدوار کدھر کا بنایا اور انعام کدھر سے دیا گیا۔ اس فعل میں کیا حکمت تھی کہ کان مراد نے مجھے اپنے مکان سے بصد مسرت غلط راہ پر نکلوایا۔ میں کس سرعت سے گمراہی کی طرف بھاگ رہا تھا اور ہر لمحہ مقصد حقیقی سے دور ہوتا جا رہا تھا۔ پھر اس گمراہی کو حق تعالیٰ نے اپنے الطاف و کرم سے ہدایت اور مقصود تک پہنچنے کا ذریعہ بنا دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…