حضرت شفیق فرمایا میں نے سات علماء سے دریافت کیا کہ
عقلمند کون ہے؟
دانا کون ہے؟
درویش کس کو کہتے ہیں؟
اور بخیل کون ہوتا ہے؟
ان سب نے ایک ہی جواب دیا
کہ عقلمند وہ ہے جو دنیا کو دوست نہ رکھے اور دانا وہ ہے کہ دنیا اس کو فریب نہ دے سکے اور وہ دولتمند ہے، جو اللہ کی تقسیم پر راضی ہو اور درویش وہ ہے، جس کے دل میں زیادتی کی طلب نہ ہو اور وہ بخیل ہے جو حق تعالیٰ کے مال کا حق ادا نہ کرے۔
یونس بن عبیدؒ کا لڑکا فوت ہو گیا۔ ابن عوفؒ نے آپ سے تعزیت نہ کی۔ کسی نے کہا کہ ابن عوفؒ نے آپ سے تعزیت نہیں کی۔ آپ نے فرمایا ’’جب ہمیں ایک شخص کی دوستی پر وثوق ہے پھر اس کا ہمارے پاس نہ آنا مضر نہیں‘‘۔
مکہ شریف میں ایک دن حضرت ابراہیم ادھمؒ آپ(شفیقؒ ) کے پاس تشریف رکھتے تھے۔ آپ نے فرمایا ’’اے ابراہیم! معاش کے بارے میں تم کیا کرتے ہو؟‘‘ فرمایا اگر کوئی چیز مل جائے تو شکر کرتا ہوں، ا گر نہیں ملتی تو صبر کرتا ہوں۔‘‘ آپ کہنے لگے ’’گلی کے کتے بھی یہی کرتے ہیں‘‘۔ اگر چیز انہیں مل جاتی ہے تو اظہار شکر میں دم ہلاتے ہیں اور اگر نہیں ملتی تو صبر کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ادھمؒ نے فرمایا بھلا پھر تم کیا کرتے ہو؟ آپ نے فرمایا اگر ہمیں کو کوئی چیز مل جاتی ہے تو ایثار کرتے ہیں اور اگر نہیں ملتی تو صبر کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ادھمؒ اٹھے اور آپ کا سر چوم لیا۔



















































