جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

لاہور کے ہال روڈ پر بھیک مانگنے والی ماضی کی سینئر ترین صحافی اور 4 اخبارات کی مالکن !

datetime 18  جولائی  2016 |

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) ماضی کی سینئر ترین صحافی اور 4 اخبارات کی مالکن شہناز طارق نجی ٹی وی پروگرام کی خصوصی نشریات میں شرکت کے با وجود آج بھی لاہور کے ہال روڈ پر بھیک مانگ رہی ہیں۔ شہناز طارق خصوصی نشریات میں شرکت اور امداد کے باوجود آج بھی ہال روڈ پر بھیک کیوں مانگ رہی ہیں؟ تفصیل کے مطابق سینئر صحافی شہناز طارق ماضی میں دو انگریزی اور دو اردو اخبارات کی مالکن تھیں۔ وقت اور حالات نے شہناز طارق کو اتنا مجبور کیا کہ وہ اپنے اخراجات اور ضروریات پورا کرنے کیلئے لاہور کی معروف شاہراہ پر بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئیں۔شہناز طارق نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میرے شوہر کو اس وقت 14 سال کی سزا دے دی گئی تھی اور مجھ پر شدید دباؤ ڈالا گیا تھا کہ میں اپنا ایک اخبار ایک ان پڑھ اور جاہل آدمی کو دے دوں۔ اس کام کیلئے مجھے بھی جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ شہناز طارق نے بتایا کہ وہ زندگی میں انتہائی بد ترین حالات سے گزری ہیں اور سڑکوں پر سوتی رہی ہیں۔ شہناز طارق نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ شوہر سے ملنے کیلئے جایا کرتی تھیں تو وہاں کا سپرنٹنڈنٹ انہیں دھکے مار کر باہر نکال دیا کرتا تھا۔
شہناز طارق کی جب عام پاکستانی شہریوں اور نجی ٹی وی کی جانب سے امداد کے باوجود سینئر صحافی شہناز طارق آج بھی ہال روڈ پر بھیک مانگ رہی ہیں؟ یہ سوال بہت سارے ذہنوں میں جنم لیتا ہے کہ آخر آج بھی شہناز طارق ہال روڈ پر بھیک کیوں مانگ رہی ہیں؟ شہناز طارق سے جب اس بابت سوال کیا کہ وہ آج بھی ہال روڈ پر بھیک کیوں مانگ رہی ہیں تو شہناز طارق نے جواب دیا کہ دنیا میں ان کا کوئی بھی نہیں۔۔۔ وہ آخر بیٹھ کر کریں بھی تو کیا کریں؟شہناز طارق نے کہا کہ وہ آج بھی ہال روڈ پر بھیک اسلئے مانگتی ہیں کہ انہیں وہاں بیٹھ کر سکون ملتا ہے اور انہیں آتے جاتے ہوئے لوگ اور ہال روڈ کی رونق کی عادت پڑ چکی ہیں اور وہاں کے دوکاندار اور راہگیر ان کا خیال بھی رکھتے ہیں اور ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…