جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

جرمنی,اسکولوں میں اسلامیات کی تعلیم میں وسعت کا فیصلہ

datetime 6  جولائی  2016 |

جرمنی کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی حکومت کے ایک فیصلے کے مطابق سن دو ہزار سترہ سے اس وفاقی ریاست کے اسکولوں میں اسلامیات کی تعلیم کا دائرہ بہت وسیع کر دیا جائے گا۔جرمنی میں اسکولوں کے طلبہ و طالبات، خاص کر مسلم بچوں کے لیے اسلامیات کی تعلیم ایک عرصے سے بہت اہم موضوع ہے۔ کئی جرمن اسکولوں میں اسلامیات باقاعدہ ایک مضمون کے طور پر پڑھائی بھی جاتی ہے۔ اس حوالے سے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے دارالحکومت ڈسلڈورف سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ماحول پسندوں کی گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والی صوبائی وزیر تعلیم سِلویا لوہرمان نے بتایا کہ دو برس بعد اس صوبے کے اسکولوں میں اسلامیات کی تعلیم کے حوالے سے دستیاب مواقع واضح طور پر زیادہ ہو جائیں گے۔جرمنی کے اس صوبے میں جو کئی ملین بچے اسکول جاتے ہیں، ان میں قریب ساڑھے تین لاکھ مسلم لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ ان بچوں کو اسلامیات کی تعلیم دینے کے لیے اب تک صرف دو سو پندرہ باقاعدہ سند یافتہ اساتذہ موجود ہیں۔
صوبائی وزیر تعلیم کے مطابق اگلے دو برسوں میں اسی صوبے کے شہر میونسٹر کی یونیورسٹی سے ایسے بہت سے نئے اساتذہ پڑھ کر نکلیں گے، جو بچوں کو اسلامیات کی تعلیم دے سکیں گے۔ اس وقت اس یونیورسٹی کے شعبہٴ اسلامی علوم کے طلباء کی تعداد ساڑھے تین سو سے زائد ہے، جن میں سے دو سو سے زیادہ اسلامیات کے اساتذہ کے طور پر اپنی تربیت مکمل کر رہے ہیں۔جرمن اسکولوں میں اسلامیات کا مضمون پڑھانے والے اساتذہ کی بہت بڑی اکثریت خود بھی مسلمان ہے اور ایسے ٹیچرز کا تعلق اکثر جرمنی میں آباد مسلمانوں کے مختلف نسلی گروپوں سے ہوتا ہے، مثلاﹰ ترک نژاد جرمن، عرب نژاد جرمن، دیگر قومیتیں یا پھر مقامی آبادی سے تعلق رکھنے والے جرمن مسلمان۔ایسے باقاعدہ ڈگری یافتہ استادوں یا استانیوں کے لیے جرمن شہری ہونا لازمی نہیں ہے بلکہ وہ جرمنی میں مستقل قیام پذیر ایسے غیر ملکی بھی ہو سکتے ہیں، جو اسلامی علوم پر دسترس رکھتے ہوں اور اسلامیات کی تعلیم دینے کے لیے حکومت کی تسلیم کردہ اور مقامی طور پر حاصل کی گئی ڈگریاں پیش کر سکیں۔ سرکاری اسکولوں میں ایسے اساتذہ کی بھرتی کے لیے ایک اہم شرط یہ بھی ہوتی ہے کہ ان خواتین و حضرات کو جرمن زبان پر مکمل عبور حاصل ہو کیونکہ جرمن اسکولوں میں اسلامیات جرمن زبان میں ہی پڑھائی جاتی ہے۔جرمنی یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ اس کی مجموعی آبادی اس وقت قریب 83 ملین ہے، جس میں چار ملین کے قریب مسلمان شامل ہیں۔ ان میں سے بھی قریب تین ملین مسلمان ترک نژاد ہیں۔ زیادہ تر مسلم گھرانے اپنے بچوں کی مذہبی تعلیم کا اہتمام گھر پر ہی یا پھر مقامی مسجدوں میں کرتے ہیں، کیونکہ ابھی تک تمام اسکولوں میں مسلمان بچوں کے لیے اسلامیات کی تعلیم ممکن نہیں ہو سکی۔جرمنی کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی حکومت کے ایک فیصلے کے مطابق سن دو ہزار سترہ سے اس وفاقی ریاست کے اسکولوں میں اسلامیات کی تعلیم کا دائرہ بہت وسیع کر دیا جائے گا۔جرمنی میں اسکولوں کے طلبہ و طالبات، خاص کر مسلم بچوں کے لیے اسلامیات کی تعلیم ایک عرصے سے بہت اہم موضوع ہے۔ کئی جرمن اسکولوں میں اسلامیات باقاعدہ ایک مضمون کے طور پر پڑھائی بھی جاتی ہے۔ اس حوالے سے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے دارالحکومت ڈسلڈورف سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ماحول پسندوں کی گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والی صوبائی وزیر تعلیم سِلویا لوہرمان نے بتایا کہ دو برس بعد اس صوبے کے اسکولوں میں اسلامیات کی تعلیم کے حوالے سے دستیاب مواقع واضح طور پر زیادہ ہو جائیں گے۔جرمنی کے اس صوبے میں جو کئی ملین بچے اسکول جاتے ہیں، ان میں قریب ساڑھے تین لاکھ مسلم لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ ان بچوں کو اسلامیات کی تعلیم دینے کے لیے اب تک صرف دو سو پندرہ باقاعدہ سند یافتہ اساتذہ موجود ہیں۔صوبائی وزیر تعلیم کے مطابق اگلے دو برسوں میں اسی صوبے کے شہر میونسٹر کی یونیورسٹی سے ایسے بہت سے نئے اساتذہ پڑھ کر نکلیں گے، جو بچوں کو اسلامیات کی تعلیم دے سکیں گے۔ اس وقت اس یونیورسٹی کے شعبہٴ اسلامی علوم کے طلباء کی تعداد ساڑھے تین سو سے زائد ہے، جن میں سے دو سو سے زیادہ اسلامیات کے اساتذہ کے طور پر اپنی تربیت مکمل کر رہے ہیں۔جرمن اسکولوں میں اسلامیات کا مضمون پڑھانے والے اساتذہ کی بہت بڑی اکثریت خود بھی مسلمان ہے اور ایسے ٹیچرز کا تعلق اکثر جرمنی میں آباد مسلمانوں کے مختلف نسلی گروپوں سے ہوتا ہے، مثلاﹰ ترک نژاد جرمن، عرب نژاد جرمن، دیگر قومیتیں یا پھر مقامی آبادی سے تعلق رکھنے والے جرمن مسلمان۔
ایسے باقاعدہ ڈگری یافتہ استادوں یا استانیوں کے لیے جرمن شہری ہونا لازمی نہیں ہے بلکہ وہ جرمنی میں مستقل قیام پذیر ایسے غیر ملکی بھی ہو سکتے ہیں، جو اسلامی علوم پر دسترس رکھتے ہوں اور اسلامیات کی تعلیم دینے کے لیے حکومت کی تسلیم کردہ اور مقامی طور پر حاصل کی گئی ڈگریاں پیش کر سکیں۔ سرکاری اسکولوں میں ایسے اساتذہ کی بھرتی کے لیے ایک اہم شرط یہ بھی ہوتی ہے کہ ان خواتین و حضرات کو جرمن زبان پر مکمل عبور حاصل ہو کیونکہ جرمن اسکولوں میں اسلامیات جرمن زبان میں ہی پڑھائی جاتی ہے۔جرمنی یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ اس کی مجموعی آبادی اس وقت قریب 83 ملین ہے، جس میں چار ملین کے قریب مسلمان شامل ہیں۔ ان میں سے بھی قریب تین ملین مسلمان ترک نژاد ہیں۔ زیادہ تر مسلم گھرانے اپنے بچوں کی مذہبی تعلیم کا اہتمام گھر پر ہی یا پھر مقامی مسجدوں میں کرتے ہیں، کیونکہ ابھی تک تمام اسکولوں میں مسلمان بچوں کے لیے اسلامیات کی تعلیم ممکن نہیں ہو سکی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…