روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی عائلی زندگی برسوں سے ایسے صیغہ راز میں رکھی جا رہی ہے جیسے وہ کوئی ملکی راز ہوتا ہے۔ اب ا ن کی ایک بیٹی کا ذکر اس کے ایک جعلی نام سے روسی ذرائع ابلاغ پر سامنے آیا ہے۔ولادی میر پوٹن کی ازدواجی زندگی کا اختتام گزشتہ برس ہوا تھا۔ تیس برسوں تک رہنے والی شادی انجام کار طلاق پر ختم ہوئی۔ طلاق کے بعد ان کی بیوی ل ±ڈیمیلا کہاں اور کس حال میں ہے، کوئی نہیں جانتا، ان کی دو بیٹیاں ایکٹیرینا اور ماریا ہیں۔ کس صورت شکل کی ہیں، اس بارے میں بہت ہی کم لوگ آگاہ ہیں۔ سن 2013 میں پیدا ہونے والے اختلافات کے بعد گزشتہ برس اپریل میں لڈیمیلا کے ساتھ طلاق کا معاملہ مکمل ہوا تھا۔ ایسی رپورٹیں بھی سامنے آئی تھیں کہ پوٹن سن 1983 میں پیدا ہونے والی خوبرو ایتھلیٹ علینا کابائیفا کے ساتھ شادی کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے۔ اِس بارے میں اٹھنے والی تمام خبروں کی تردید پوٹن نے خود ہی کر دی تھی۔روسی صدر پوٹن کی بڑی بیٹی ماریا 29 برس اور چھوٹی بیٹی ایکٹیرینا 28 سال کی ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ماریا گزشتہ برس تک ہالینڈ میں مقیم تھی۔ ا سے ہالینڈ تب چھوڑنا پڑا تھا جب ایک ولندیزی شہر کے میئر نے ا س کی ملک بدری کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ مطالبہ ملائیشین ایئر لائنز کی پرواز ایم ایچ ستّرہ کو مار گرانے کے بعد سامنے آیا تھا۔ اِس واقعے میں ہالینڈ کے متعدد شہری ہلاک ہوئے تھے۔ بعد میں میئر نے ماریا کی ملک بدری کا مطالبہ واپس بھی لے لیا تھا۔ اب وہ کس ملک میں مقیم ہیں، اِس بارے بھی مصدقہ معلومات نہیں ہیں۔روسی صدر کی چھوٹی بیٹی کے حوالےسے تازہ خبریں ایک آزاد ملٹی میڈیا ایجنسی کی جانب سے ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی میں جاری اربوں ڈالر کے ایک پراجیکٹ کی نگران خاتون کاٹرینا ولادیمیروفنا تِخونوفاکے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ اِسی خاتون کی اصل شناخت کے بارے میں اپوزیشن لیڈر اور بلاگر الیکسی ناوالنی نے اپنے فیس بک پیج پر تفصیل جاری کی ہے۔ ناوالنی نے آر بی سی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صدر پوٹن کی بیٹی کو ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کی سائنٹیفک کونسل میں تلاش کر لیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کے ایک اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ تِخونوفا صدر پوٹن کی صاحبزادی ہیں۔آر بی سی ایک ٹیلی وڑن چینل، اخبار اور انٹرنیٹ پورٹل کا حامل ادارہ ہے۔ اِس نے اپنی رپورٹ میں سوال اٹھایا تھا کو ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کے بڑے توسیعی پراجیکٹ کی نگرانی کس کے ہاتھ میں ہے۔ اِسی رپورٹ میں خاتون کاٹرینا ولادیمیروفنا کا تذکرہ سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ میں پوٹن کے دوست کئی بڑے ارب پتی تاجر بھی شریک ہیں۔ آر بی سی نیٹ ورک کے مطابق تِخونوفا نے انٹرویو کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق یہی خاتون ایک ادارے اِنوپراکٹیکا (Innopraktika) کی سربراہ بھی ہیں اور یونیورسٹی پراجیکٹ کی تکمیل میں یہ پیش پیش ہیں۔ اِنوپراکٹیکا نے بھی رپورٹ پر جوابی ردِ عمل ظاہر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ روس کے مرکزی بینک کے سابق اعلیٰ اہلکار اور پوٹن اپوزیشن کے رہنما سرگئی الیکساشینکو کا کہنا ہے کہ اگر یہ خبر درست ہے تو پھر صدر پوٹن نے ا س حد کو عبور کر لیا ہے، جس کے تحت وہ رشتہ داروں کو نوازنے کی حوصلہ شکنی کرتے رہے ہیں۔ماسکو حکومت کے ترجمان سے جب تِخونوفا کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ یہ کون خاتون ہے۔ کریملن حکام پوٹن سے متعلق سوالات کے جواب دینے کو رد کر دیتے ہیں۔ ایک مرتبہ ماسکو حکومت کے ترجمان دیمتری پیسکوف سے صدر کی بیٹیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ا نہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں رکھتے اور ویسے بھی وہ صدر کے ساتھ منسلک ہیں ناکہ صدر کے بچوں سے۔
روسی صدر کی پراسرار خاندانی زندگی پوٹن کی بیٹی ماریا کو ہالینڈ چھوڑنا پڑا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پانچ سو ڈالر
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
موبائل صارفین بیلنس کٹوتی سے کیسے محفوظ رہیں؟ بالکل مفت اور آسان طریقہ
-
ایران امریکا مذاکرات کا اعلان،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی



















































