جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

مجھ سے شادی کرلو یا غلام بننے کی تیاری کرلو

datetime 6  جولائی  2016 |
A family fleeing the violence in Mosul waits at a checkpoint on the outskirts of Arbil, in Iraq's Kurdistan region, June 11, 2014. Sunni insurgents from an al Qaeda splinter group extended their control from the northern city of Mosul on Wednesday to an area further south that includes Iraq's biggest oil refinery in a devastating show of strength against the Shi'ite-led government. REUTERS/Stringer (IRAQ - Tags: CIVIL UNREST POLITICS CONFLICT) - RTR3TA50

شام میں داعش کے مظالم جاری ہیں جس کے بارے میں ایک اورحقیقت سامنے آگئی ہے ۔شام میں داعش کے غلبے کے بعدشامی باشندوں پر جو ظلم ہورہے ہیں سو ہو رہے ہیں لیکن شامی خواتین پر تو گویا قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ داعش کے شدت پسند خواتین سے جبری شادیاں کر رہے ہیں اور جو شادی پر رضامند نہ ہو اس کو ”باندی“ بنا لیا جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک شامی خاتون نے اپنی کہانی سنائی ہے جس کا شوہر شامی فوج کی طرف سے لڑتے ہوئے جاں بحق ہو گیا تھا۔ 37سالہ شورکانا علوی پرائمری سکول ٹیچر تھی اور خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہی تھی، اس کا ایک چھوٹا سا بیٹا تھا۔ پھر ایک دن اس کے شوہر نے داعش کے خلاف لڑنے کے لیے شامی فوج میں شمولیت اختیار کر لی اور دو ہفتے بعد جنگ میں جاں بحق ہو گیا۔ شوہر کے مرنے کے بعد شورکانا اپنے معصوم بچے کے ہمراہ بے اسرا رہ گئی اوراس کے رشتہ داروں نے بھی اس کونہیں پوچھاجس کے بعد حیران کن بات یہ ہے کہ کس طرح اس عورت کے بارے میں داعش کومعلوم ہوگیاکہ وہ ایک بے آسراخاتون ہے اوراسے داعش کے مقامی امیر نے پیغام بھیجا کہ ”مجھ سے شادی کر لو یاپھر میری باندی بننے کے لیے تیار ہو جاو۔“شورکانا نے داعش کے امیر سے شادی سے دو دن قبل شام سے راہ فرار اختیار کی اور ترکی میں داخل ہو گئی اور آج کل ترکی کے شہر عرفہ میں ایک کمرے کے گھر میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہے۔ شورکا کا کہنا تھا کہ مجھ سے 10سال چھوٹے داعش کے امیر نے میری ہمسائی کے ہاتھ متعدد بار رشتہ بھیجا لیکن میں نے ہر بار انکار کر دیا۔ لیکن جب شہر پر داعش کامکمل قبضہ ہو گیا تو اس مقامی امیر نے میرے دروازے پر آ کر دستک دی، میں دروازے پر گئی تو اس نے کہا کہ دو دن میں مجھ سے شادی کر لو ورنہ میری باندی بننے کے لیے تیار ہو جاو۔اب میں بے بس ہو گئی تھی اور میرے پاس عزت بچانے کے لیے وہاں سے بھاگنے کے سوا کوئی راستہ نہ بچا تھا۔ شورکانا نے کہا کہ ترکی آنے کے بعد اب تک میں بیروزگار ہوں اور گھر میں صرف اپنے بیٹے کو ہی پڑھاتی ہوں، لیکن میں پرامید ہوں کہ مجھے جلد کسی سکول میں نوکری مل جائے گی، میں اپنے بیٹے کے حوالے سے بہت متفکر ہوں ، معلوم نہیں میں اسے کیسا مستقبل دے پاوں گی۔اس مظلوم خاتون کے ساتھ جوبیت رہی ہے وہ خود تواس کے بارے میں سب بہترہی جانتی ہوگی لیکن انسانی حقوق کی تنظمیں اورادارے کہاں ہیں جواس مظلوم خاتون کوایک باعزت زندگی کے ساتھ ساتھ اس کے بچوں کامستقبل بھی محفوظ بنادیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…