جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

مودی نے دشمنی کی انتہاءکردی لیکن پاکستان بھی کمزورنہیں

datetime 6  جولائی  2016 |

پاکستان اور بھارت کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔ اب اس افسوسناک بحث میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی کود پڑے ہیں۔ بنگلہ دیش کے دورے کے دوران انہوں نے پاکستان کے خلاف تند و تیز بیانات دئیے ہیں۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم سے 1971 میں سقوط ڈھاکہ کے وقت منعقد ہونے والی فوجی تقریب کی تصویر وصول کی۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نریندر مودی نے مشرقی پاکستان کی خانہ جنگی میں بھارتی کردار کا ذکر کر کے بنگلہ دیشی عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش بھی کی۔ لیکن اس طرح وہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کا باعث بھی بنے ہیں۔
اسلام آباد میں وزیراعظم نریندر مودی کے ڈھاکہ میں دئیے گئے بیانات کا سخت نوٹس لیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھارتی وزیراعظم اس قسم کے پاکستان دشمن بیانات دے کر بنگلہ دیش کے ساتھ پاکستان کے دوستانہ تعلقات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے 1971 کی خانہ جنگی میں بھارتی مداخلت کو تسلیم کر کے یہ اقرار بھی کیا کہ بھارت نے اس وقت مسلمہ عالمی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کو تقسیم کروانے میں کردار ادا کیا تھا۔ ترجمان نے اقوام متحدہ اور دیگر ملکوں سے اس بیان کا نوٹس لینے اور بھارتی طرز عمل کو مسترد کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔ کسی سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان شروع سے مخاصمت اور دشمنی کا جو رشتہ استوار ہو چکا ہے، اس کی روشنی میں کوئی بھی ملک دوسرے کے لئے نیک خواہشات و جذبات نہیں رکھتا۔ گزشتہ پانچ چھ دہائیوں کے دوران اسی طرز عمل کی وجہ سے دونوں ملکوں میں دو بڑی اور متعدد چھوٹی جنگیں ہو چکی ہیں۔ لیکن 2015 میں اپنے ملکوں کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیلنے کی حکمت عملی پاکستان اور بھارت دونوں کے لئے ہی مہلک اور خطرناک ہو گی۔ مشرقی پاکستان کے تنازعہ میں بھارتی مداخلت پر احتجاج کرتے ہوئے پاکستان کو بھی ماضی سے سبق سیکھنے اور اس کی روشنی میں مثبت حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات طے ہے کہ اگر مشرقی پاکستان کی بنگالی اکثریت کے حقوق سلب نہ کئے جاتے اور مجیب الرحمن کی 1971 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد اس کے ساتھ سیاسی معاملات طے کرنے کی کوشش کی جاتی تو بھارت کو بھی مکتی باہنی کی مدد کے ذریعے پاکستان کو مزید کمزور کرنے اور اس کی فوج کو شرمناک سرنڈر کرنے پر مجبور کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔ بھارت نے ضرور اس وقت دشمنی کا رشتہ نبھایا اور اس بات کی بھرپور کوشش کی تھی کہ پاکستان بہر صورت تقسیم ہو جائے۔ بھارتی لیڈر اس طرح یہ سیاسی نعرہ بلند کر سکتے تھے کہ برصغیر کی تقسیم کا اصول غلط تھا اور 40 کی دہائی میں مسلم لیگ کی جدوجہد غلط اصول پر استوار تھی۔ تاہم اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی اٹل حقیقت ہے کہ اسلام آباد کی طاقت اور بالا دستی کے خلاف جدوجہد کرنے والے مشرقی پاکستانی بنگالی باشندوں نے مجیب الرحمن کی قیادت میں علیحدہ ملک تشکیل دیا تھا۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ الحاق نہیں کیا تھا۔ اس طرح نظریہ پاکستان یا مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کی مسلم لیگی جدوجہد کا یہ اصول مسترد نہیں مزید مضبوط ہؤا تھا کہ مسلمانوں کو متحدہ ہندوستان میں مساوی حقوق میسر نہیں ہو سکیں گے۔ بنگلہ دیش کا قیام اگر مغربی پاکستان کے سیاسی وڈیروں اور بیورو کریسی کی یکطرفہ اور جانبدارانہ پالیسیوں کی ناکامی تھی تو وہ اس بات کی تصدیق بھی تھا کہ مشرقی بنگال کے مسلمان بدستور ہندوستان میں ہندو اکثریت کی بالا دستی کے خطرات سے آگاہ تھے۔
اس تناظر میں بحث کو آگے بڑھانے کی بجائے بھارت اور پاکستان کو اپنی غلطیوں کا اپنے طور پر ادراک کر کے باہمی معاملات کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ بنگلہ دیش میں ابھی وہ نسل زندہ ہے جس نے 1971 میں فوج اور جماعت اسلامی کے مسلح جتھوں کے مظالم کو برداشت کیا تھا اور دیکھا تھا۔ اس لئے ڈھاکہ میں پاکستان کے خلاف باتیں کر کے داد وصول کرنا کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہے۔ بھارت سوا ارب لوگوں کا ملک ہے۔ اس کی معیشت دنیا بھر میں ساتویں نمبر پر ہے۔ اس جثے کا ملک اور اتنے بڑے ملک کا وزیراعظم اگر بیرون ملک دورے کے دوران سیاسی نعرے بازی کے ہتھکنڈے اختیار کر کے تالیاں سننا چاہتا ہے تو اس کی عقل اور ویژن کے بارے میں سنگین شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ نریندر مودی نے ڈھاکہ میں پاکستان کے خلاف باتیں کرتے ہوئے دہشت گردی کے حوالے سے ایک بار پھر پاکستان پر الزام تراشی کی اور اسے خطے میں سب مسائل کا سبب قرار دینے کی کوشش کی۔ لیکن انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ اس قسم کا سیاسی اور سفارتی رویہ اختیار کر کے وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید کشیدہ اور مشکل کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ ایک برس اقتدار میں رہنے کے دوران مودی حکومت کی طرف سے پاکستان کے حوالے سے کوئی خیر کی خبر نہیں آئی ہے بلکہ گزشتہ برس کے آخر میں سرحدی خلاف ورزیوں کا طویل سلسلہ شروع کر کے دونوں ملکوں کو ایک بار پھر جنگ کے دہانے کی طرف دھکیلا گیا تھا۔ بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے گزشتہ ماہ دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے دہشتگردی کی سرپرستی کی بات کر کے صورتحال کو ایک بار پھر انگیختہ کیا ہے۔ ان حالات میں نریندر مودی کو ایک قد آور لیڈر کے طور پر کشیدگی کو کم کرنے کے لئے رول ادا کرنا چاہئے تھا۔ وہ چاہیں تو اس خطہ کے سارے ملک مل کر نہ صرف دہشتگردی بلکہ غریب عوام کے مسائل کو حل کرنے اور معاشی ترقی کے لئے بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن بنگلہ دیش کے دورہ کے دوران مودی نے جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے وہ ایک بڑے ملک کے باوقار لیڈر کے برعکس کسی چھوٹی سی ریاست کے غیر محفوظ اور خوفزدہ حکمران کا رویہ لگتا ہے۔ نریندر مودی اور ان کے ہمنوا اگر برصغیر میں ایک نئی جنگ شروع کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اس کی تباہ کاری اور عواقب کا بھی اندازہ کر لینا چاہئے۔ یہ لوگ جس دہشتگردی کو فروغ دینے کا الزام پاکستان پر عائد کر کے خود کو مظلوم اور مجبور ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں دونوں ملکوں کے درمیان نئی جنگ کی صورت میں صرف انہی عناصر کو استحکام اور تقویت ملے گی۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ افغانستان اور عراق میں امریکی جنگوں کے نتیجے میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں، وہ جنگ کے نقصانات کے علاوہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کے فروغ کے حوالے سے بھی سبق آموز ہونے چاہئیں۔ بھارتی وزیراعظم کو ہمہ وقت ووٹروں کے جذبات کو دھیان میں رکھتے ہوئے تقریریں کرنا ترک کر دینا چاہئے۔ بھارت کے عوام کی ضرورتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ یوں بھی جو لیڈر عوام کے پیچھے چلنے اور ان کے جذبات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ کبھی تبدیلی لانے اور اپنے لوگوں کی فلاح کے لئے کام کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔ مودی کے لئے بہتر ہو گا کہ وہ پاکستان اور اس کی طرف سے بھارتی معاملات میں مداخلت کے خوف سے باہر نکلیں اور ردعمل کے طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی نے پاکستان میں دہشتگردی کی سرپرستی کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، اسے ختم کروائیں۔ وگرنہ تاریخ انہیں بھارت کے ایک ایسے لیڈر کے طور پر یاد کرے گی جو نعرے لگاتا ہؤا برسر اقتدار تو آ گیا تھا لیکن اپنے کسی دعوے کو عملی جامہ نہ پہنا سکا۔ کیونکہ اس نے اپنی ساری صلاحیتیں نعرے لگانے اور ایک چھوٹے ہمسایہ ملک کے خوف میں مبتلا ہو کر ضائع کر دی تھیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق نریندرامودی کیطرف سے پاکستان کی مخالفت میں انتہائی اقدام اٹھانے کے بعد اب ایک نیامسئلہ کھڑاہوجائے گاکہ اب پاکستان اوربھارت کے درمیان دوبارہ امن مذاکرات کاعمل کیسے شروع ہوسکے گا۔ماہرین کے مطابق مودی نے پاکستان مخالف جوروش اختیارکی ہے اس کی وجہ سے خطے میں پائیدارامن کے قیام کی کوششوں کوشدیدخطرہ درپیش ہوگیاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…