ایسے15 ارب پتی افراد جو اپنی دولت بچوں کی بجائے فلاحی کاموں کے لیے چھوڑنے کے خواہش مند ہیں یہ خود تو دنیا سے خالی ہاتھ جائیں گے ہی مگر اپنے بچوں کو بھی خالی ہاتھ چھوڑ کر جائیں گے دنیا میں اولاد سے زیادہ پیارا کوئی نہیں ہوتا اور ہر انسان ان کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے دن رات محنت سے اپنی دنیا بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ کچھ بچوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سونے کا چمچہ منہ میں لے کر آتے ہیں اور ان کے والدین اتنے اثاثوں کے مالک ہوتے ہیں کہ وہ دونوں ہاتھ سے بھی لٹائے تو بھی ختم نہیں کرسکتے۔ عام تصور یہ ہے کہ امیر طبقہ بس بچوں کو اپنے تمام اثاثوں کا مالک بنانے کے لیے جائز و ناجائز طریقوں سے دولت کمانے کو برا نہیں سمجھتا مگر دنیا کے تمام ارب پتی اپنے بچوں کے لیے اس طرح کی سوچ نہیں رکھتے، یقیناً متعدد افراد اپنی مہنگی ترین گاڑیاں، طیارے، کشتیاں اور گھر وغیرہ مرنے کے بعد اولاد کو آپس میں لڑنے کے لیے چھوڑ جاتے ہیں تاہم دنیا کے کچھ ایسے امیر ترین افراد بھی ہیں جو دنیا سے خود تو خالی ہاتھ جائیں گے ہی مگر ساتھ اپنے بچوں کو بھی خالی ہاتھ چھوڑ کر جائیں گے۔ یقین نہیں آتا ناں ؟ مگر واقعی دنیا کے پندرہ امیر ترین افراد ایسے ہیں جنھوں نے اپنے مرنے کے بعد اپنے بچوں کے لیے کچھ نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور سب کچھ خیرات یا فلاحی کاموں کے لیے صرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
٭بزنس ٹائیکون وارن بفٹ:




















































