انسانی حقوق کا واویلا تو پوری دنیا میں بڑی شد و مد سے ہوتا ہے‘ رہن سہن‘ خوراک و ادویات اور جان کے تحفظ کے لئے بھی ادارے اور وزارتیں قائم ہیں‘ دنیا کے قریباً ہر ملک میں انسانی تحفظ کیلئے سیکورٹی ادارے اور وزارتیں موجود ہیں کہ کائنات ارضی کی ساری بہار انسان سے ہی ہے لیکن اس کے باوجود دنیا بھر کے سات ارب سے زائد لوگوں میں سے آج بھی کروڑوں لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں ‘ کھربوں کے بجٹ‘ لاکھوں کی تعداد میں فورسز اور جدید ترین اسلحہ ہونے کے باوجود انسان شدت سے جائے اماں کی تلاش میں ہے ‘ ان حقائق کے باوجود پڑوسی ملک میں ایک انوکھی وزارت تخلیق پائی ہے۔ بھارت میں گزشتہ دنوں گائے کے تحفظ اور حقوق کیلئے باقاعدہ ایک وزارت کی داغ بیل ڈالی گئی۔ یہ سچ کہ بھارت میں گائے ہندوؤں کے لیے مقدس اور انتہائی اہم جانور ہے لیکن انسانی حقوق کی عدم فراہمی کے باوجود گائے کو حقوق کی فراہمی ایک دلچسپ امر ہے۔ بھارتی حکومت نے اس سلسلے میں مشہور بھوپاج کہلانے والے اوتارام دیواسی کو راجستھانی حکومت نے گائے کا وزیر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد وہ گاؤ ماتا کے وزیر بن کر خود کو ’’گاؤپالن منتری‘‘ کہلانے والے بن گئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے کسی ایک مخصوص جانور کے لیے وزارت لے کر انوکھی تاریخ بھی رقم کردی ہے شائد اگر میں غلط نہیں ہوں تو یہ دنیا بھر میں سب سے انوکھی وزارت ہے ۔ اس وزارت کے قیام کا جنرل الیکشن کے دوران بی جے پی کی امیدوار وسوندھرا راجے نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا‘ انہوں نے بھارتی قوم سے وعدہ کیا تھاکہ گائے کی حفاظت کے لیے ایک الگ سے وزارت بنائی جائے گی جس کا وعدہ انہوں نے ایک وزیر مقرر کرکے وفا کردکھایا ہے۔
مزید پڑھیے:وہ غیرملکی حسینائیں جوبالی ووڈ کی پہچان بن گئیں



















































