جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

احمد کو اوباما کی شاباش، وائٹ ہاؤس میں بلاوا

datetime 6  جولائی  2016 |

امریکی ریاست ٹیکسس کی پولیس نے 14 برس کے اس مسلمان لڑکے کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنے فیصلہ کیا ہے جسے گھر میں بنائی ہوئی گھڑی سکول لانے پرگرفتار کر لیا گیا تھا۔ اِروِنگ میں میک آرتھر ہائی سکول کے اہلکاروں نے اس گھڑی کو ’بم‘ سمجھ کر پولیس کو بلا لیا تھا۔ لیکن گھڑی بنانے والے احمد محمد کی گرفتاری پر ہر جگہ بڑی تنقید ہوئی اور اس بچے کے لیے جگہ جگہ ہمدردی کا اظہار ہوا۔ حتیٰ کہ صدر براک اوباما نے بھی گھڑی کی تعریف کی ہے اور احمد کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی ہے۔ احمد کے خاندان کو یقین ہے کہ انھیں ناماِروِنگ کے محکمۂ پولیس کے سربراہ لیری بوئڈ نے بدھ کو کہا ’ہمارا مسلم کمیمونٹی سے بہت ہی اچھا تعلق رہا ہے۔ اس طرح کے واقعات چیلنج بن کر سامنے آتے ہیں۔ ہم یہ سیکھنا چاہتے ہیں کہ ہم آگے کیسے بڑھ سکتے ہیں اور اس واقعہ سے مثبت پہلو کیسے نکال سکتے ہیں۔‘احمد کو حراست میں لیے جانے کے بعد ہتھکڑی لگائی گئی اور اس کے فنگر پرنٹس لیے گئے۔ لیکن جب یہ طے ہوگیا کہ اس سے کوئی خطرہ نہیں تو اسے رہا کر دیا گیا۔ ’آئی سٹینڈ وِد احمد‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹوئٹر پر ہزاروں صارفین نے احمد کی گھڑی کی تعریف کی اور ان کو حراست میں لیے جانے پر سوال اٹھایا۔ ان افراد میں ناسا کے سائنس دان، فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ اور امریکہ کے صدر براک اوباما شامل ہیں۔ صدر اوباما نے ٹویٹ کیا ’ احمد شاباش، آپ نے بڑی اچھی گھڑی بنائی۔ آپ اسے وائٹ ہاؤس لانا چاہیں گے؟ ہمیں آپ جیسے بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے تاکہ انھیں بھی سائنس پسند آئے۔ اس طرح کے کام ہی امریکہ کو ایک عظیم ملک بناتے ہیں۔‘ کی احمد کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے گھر پر گھڑی بنائی تھی اور انجینیئرنگ کے استاد کو دکھانے کے لیے اسے سکول لے گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ استاد نے انھیں مبارک دی لیکن ساتھ ہی نصیحت کی کہ وہ یہ گھڑی ’دوسرے اساتذہ کو نہ دکھائیں۔‘ لیکن نوجوان احمد نے بتایا کہ جب کلاس میں سبق کے دوران گھڑی سے بیپ کی آواز آئی تو ایک استانی کو اس گھڑی کا علم ہوگیا۔ ’اس ٹیچر نے کہا کہ یہ تو بم لگتا ہے۔احمد کی بنائی ہوئی اس گھڑی میں ایک سرکٹ بورڈ ہے جس کے ساتھ تاریں جڑی ہوئی ہیں جو ڈیجیٹل ڈسپلے تک جاتی ہیں۔اس واقعے کے بعد احمد کو کلاس سے باہر لایا گیا، ہیڈ ٹیچر اور چار پولیس اہلکاروں نے ان کا انٹرویو کیا اور انھیں بچوں کے سزا خانے میں لے جایا گیا۔بعد میں سکول نے ایک بیان جاری کیا کہ ’ہم نے اپنے طالب علموں اور عملے سے کہا ہوا ہے کہ وہ اگر کوئی مشکوک چیز دیکھیں تو فوراً اس کی اطلاع کریں۔‘احمد کے والد نے محمد الحسان محمد جن کا تعلق سوڈان سے ہے کہا کہ ان کے بیٹے کو اس کے نام’اور 11 ستمبر کی وجہ سے‘ برے سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکن اسلامک ریلیشن کونسل کی عالیہ سلیم اس بات سے متفق ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’اگر لڑکے کا نام احمد محمد نہ ہوتا تو اس طرح کے سوال ہی نہ اٹھتے۔ وہ پرجوش لڑکا ہے اور بہت ذہین ہے اور اسے اپنے اساتذہ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہے۔‘وجہ سے حراست میں لیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…