اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

محنت کے بل پر دنیا کا پہلا امیر ترین شہزادہ ۔۔۔

datetime 10  جون‬‮  2016 |

پرنس ولید کے خواب بہت اونچے تھے لیکن اس کے والد نے اسے عملی زندگی شروع کرنے کیلئے صرف 30 ہزار ڈالر کا ابتدائی سرمایہ دیا‘پرنس نے اس رقم کو بھی غنیمت جانا کیونکہ وہ کم از کم اپنی کمپنی قائم کر کے کام تو شروع کر سکتا تھا۔ اس نے سعودی عرب پہنچنے کے چند ماہ بعد ہی کنگڈم ہولڈنگ کے نام سے کمپنی کی بنیاد رکھی ۔ ابتدائی دو سال اس کمپنی کیلئے کچھ اچھے نہیں تھے لیکن پھر پرنس الولید کی شبانہ روز محنت نے کمپنی کی بنیادوں کو مستحکم کرنا شروع کر دیا۔پرنس کی کمپنی کو جنوبی کوریا کی ایک کمپنی کے ساتھ اشتراک میں 8 ملین ڈالر کا ٹھیکہ ملا‘ اس ٹھیکے کے مطابق کمپنی کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے قریب ایک فوجی چھاؤنی بنانا تھی۔

AP_prince_alwaleed_bin_talal_jt_130730_16x9_992

اس وقت تک پرنس کی کمپنی کا دفتر صرف چار کمروں پر مشتمل تھا اور اس میں سے بھی ایک کمرے میں پرنس کا دفتر تھا۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ یہ جگہ بھی پرنس کے والد ہی نے اسے تحفے میں دی تھی۔ کمپنی کے قیام کے چند ماہ بعد ہی سرمایہ ختم ہو گیا اور پرنس کو قرضہ لینے کیلئے سعودی اور امریکن بینک جانا پڑا‘ پرنس نے بینک سے ایک ملین کا قرض لیا اور اس کے عوض اپناوہ مکان بھی رہن رکھنا پڑا جس میں وہ اور ان کے بچے مقیم تھے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ یہ مکان بھی پرنس کو والد ہی نے دیا تھا۔ وقت کے انقلابات دیکھئے کہ وہ پرنس جنہوں نے 1980 میں سٹی بینک سے دس لاکھ ریال کا قرض لینے کیلئے اپنا مکان رہن رکھا تھا ‘ دس سال بعدیعنی 1990ء میں سٹی بینک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے چھ سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اپنی جدوجہد شروع کرنے کے پچیس سال بعد ان کی دولت کا تخمینہ 20 ارب ڈالر لگایا جاتا ہے اورانہیں دنیا کے دولت مند ترین افراد کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے۔
پرنس الولید بن طلال کی تیز رفتار ترقی نے کئی لوگوں کو ان سے حسد پربھی مجبور کر دیا‘ ان میں ان کے اپنے خاندان کے کئی لوگ بھی شامل ہیں لیکن دوسری طرف ان کے خاندان کے کئی افراد نے ان کی مدد بھی کی۔ عالمی میڈیا نے بھی ان کی ترقی کے پیچھے منفی ہتھکنڈے تلاش کرنے کی کوششیں کیں لیکن انہیں منہ کی کھانا پڑی۔ ان کی ترقی عالمی پریس کو بھی حیران کرتی رہی۔ برطانوی ادارے ’’اکانومسٹ‘‘ نے ایک طویل عرصے تک ان کے کاروبار کی جاسوسی بھی کی لیکن ان کے کاروبار میں کبھی کسی منفی ہتھکنڈے کا کوئی دخل نہیں ملا۔ بڑے بڑے سرمایہ کاروں‘معیشت کے موضوع پر چھپنے والے اخباروں‘ رسالوں اور نامی گرامی معاشی ماہرین کو تسلیم کرنا پڑا کہ پرنس الولید کو قدرت نے غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا ہے‘ ان کے کاروبار میں کوئی پراسراریت تھی تو وہ قدرت تھی۔ کئی مرتبہ انہوں نے بڑی بڑی ڈوبتی ہوئی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی جسے معاشی جغادریوں نے حماقت سمجھا مگر بعد میں وہی کمپنیاں

1328951983-450x281

سنبھل کر پہلے سے بھی زیادہ ترقی کرنے لگیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…