جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

محنت کے بل پر دنیا کا پہلا امیر ترین شہزادہ ۔۔۔

datetime 10  جون‬‮  2016 |

پرنس ولید کے خواب بہت اونچے تھے لیکن اس کے والد نے اسے عملی زندگی شروع کرنے کیلئے صرف 30 ہزار ڈالر کا ابتدائی سرمایہ دیا‘پرنس نے اس رقم کو بھی غنیمت جانا کیونکہ وہ کم از کم اپنی کمپنی قائم کر کے کام تو شروع کر سکتا تھا۔ اس نے سعودی عرب پہنچنے کے چند ماہ بعد ہی کنگڈم ہولڈنگ کے نام سے کمپنی کی بنیاد رکھی ۔ ابتدائی دو سال اس کمپنی کیلئے کچھ اچھے نہیں تھے لیکن پھر پرنس الولید کی شبانہ روز محنت نے کمپنی کی بنیادوں کو مستحکم کرنا شروع کر دیا۔پرنس کی کمپنی کو جنوبی کوریا کی ایک کمپنی کے ساتھ اشتراک میں 8 ملین ڈالر کا ٹھیکہ ملا‘ اس ٹھیکے کے مطابق کمپنی کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے قریب ایک فوجی چھاؤنی بنانا تھی۔

AP_prince_alwaleed_bin_talal_jt_130730_16x9_992

اس وقت تک پرنس کی کمپنی کا دفتر صرف چار کمروں پر مشتمل تھا اور اس میں سے بھی ایک کمرے میں پرنس کا دفتر تھا۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ یہ جگہ بھی پرنس کے والد ہی نے اسے تحفے میں دی تھی۔ کمپنی کے قیام کے چند ماہ بعد ہی سرمایہ ختم ہو گیا اور پرنس کو قرضہ لینے کیلئے سعودی اور امریکن بینک جانا پڑا‘ پرنس نے بینک سے ایک ملین کا قرض لیا اور اس کے عوض اپناوہ مکان بھی رہن رکھنا پڑا جس میں وہ اور ان کے بچے مقیم تھے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ یہ مکان بھی پرنس کو والد ہی نے دیا تھا۔ وقت کے انقلابات دیکھئے کہ وہ پرنس جنہوں نے 1980 میں سٹی بینک سے دس لاکھ ریال کا قرض لینے کیلئے اپنا مکان رہن رکھا تھا ‘ دس سال بعدیعنی 1990ء میں سٹی بینک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے چھ سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اپنی جدوجہد شروع کرنے کے پچیس سال بعد ان کی دولت کا تخمینہ 20 ارب ڈالر لگایا جاتا ہے اورانہیں دنیا کے دولت مند ترین افراد کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے۔
پرنس الولید بن طلال کی تیز رفتار ترقی نے کئی لوگوں کو ان سے حسد پربھی مجبور کر دیا‘ ان میں ان کے اپنے خاندان کے کئی لوگ بھی شامل ہیں لیکن دوسری طرف ان کے خاندان کے کئی افراد نے ان کی مدد بھی کی۔ عالمی میڈیا نے بھی ان کی ترقی کے پیچھے منفی ہتھکنڈے تلاش کرنے کی کوششیں کیں لیکن انہیں منہ کی کھانا پڑی۔ ان کی ترقی عالمی پریس کو بھی حیران کرتی رہی۔ برطانوی ادارے ’’اکانومسٹ‘‘ نے ایک طویل عرصے تک ان کے کاروبار کی جاسوسی بھی کی لیکن ان کے کاروبار میں کبھی کسی منفی ہتھکنڈے کا کوئی دخل نہیں ملا۔ بڑے بڑے سرمایہ کاروں‘معیشت کے موضوع پر چھپنے والے اخباروں‘ رسالوں اور نامی گرامی معاشی ماہرین کو تسلیم کرنا پڑا کہ پرنس الولید کو قدرت نے غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا ہے‘ ان کے کاروبار میں کوئی پراسراریت تھی تو وہ قدرت تھی۔ کئی مرتبہ انہوں نے بڑی بڑی ڈوبتی ہوئی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی جسے معاشی جغادریوں نے حماقت سمجھا مگر بعد میں وہی کمپنیاں

1328951983-450x281

سنبھل کر پہلے سے بھی زیادہ ترقی کرنے لگیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…