جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

وادی نیلم کا قدرتی حسن اور بہار کے نت نئے رنگ

datetime 13  مئی‬‮  2016 |

یہ پندرہ برس بعد علاقے میں سیٹل ہوئے ہیں‘ یہ دوبارہ اپنے گھر بار نہیں چھوڑنا چاہتے‘ لوگوں کا خیال ہے اگر لڑائی نہ رکی تو نیلم کا محاذ بھی ایکٹو ہو جائے گا اور اس سے نیلم ویلی کے لاکھوں لوگ متاثر ہوں گے‘ اب سوال یہ ہے بھارت ایل او سی پر چھیڑ چھاڑ کیوں کر رہا ہے؟ اس کی تین وجوہات ہیں‘ پہلی وجہ نریندر مودی ہیں‘ بھارت میں پاکستان مخالف عناصر بھاری تعداد میں موجود ہیں‘ نریندر مودی ایل او سی ایکٹو کر کے ان کے ہیرو بن رہے ہیں‘ یہ اپنی مقبولیت میں اضافہ کر رہے ہیں‘ دوسری وجہ‘ ہماری فوج ضرب عضب میں مصروف ہے‘ پاکستانی طالبان کو بھارتی پشت پناہی حاصل ہے‘ فوج شمالی وزیرستان میں نوے فیصد کامیابی حاصل کر چکی ہے‘ بھارت پاکستان مخالف طاقتوں کو زندہ رکھنا چاہتا ہے چنانچہ اس نے پاک فوج کی توجہ بٹانے کیلئے مشرقی بارڈر ایکٹو کر دیا‘ ہمارے چند ناعاقبت اندیش لیڈر حکومت کو ٹارزن بننے کے مشورے دے رہے ہیں‘ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے میاں نواز شریف ان لوگوں کے دباؤ میں نہیں آ رہے کیونکہ میاں نواز شریف کی طرف سے ایک جذباتی بیان کی دیر ہے اور پاک بھارت سرحد پر جنگ شروع ہو جائے گی‘ ہم اس کے ساتھ ہی شمالی وزیرستان سے فوجیں واپس بلانے پر مجبور ہو جائیں گے اور یوں ہمیں مغربی سرحد سے طالبان اور افغان ماریں گے اور مشرقی سرحد سے بھارت۔ انڈیا یہی چاہتا ہے‘ہم ایک بیان سے بھارت کا پورا منصوبہ کامیاب بنا دیں گے‘ وزیراعظم اور فوجی قیادت کو حالات کی نزاکت سمجھنی چاہیے‘ ہمیں جنگ کے بجائے جنگ بندی پر توجہ دینی چاہیے‘ ہمارا ضرب عضب پر فوکس رہنا چاہیے‘ ہم نے یہ موقع گنوا دیا تو پھر ہم کبھی دہشت گردی کی جنگ سے باہر نہیں نکل سکیں گے اور آخری وجہ‘ بھارت پاکستان کو جمہوریت کے راستے پر چلتا نہیں دیکھنا چاہتا‘ بھارتی تھنک ٹینکس جانتے ہیں پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہو گئی تو پاکستان ترقی کرے گا اور یہ بھارت کو قبول نہیں چنانچہ بھارت نے سیاسی مسائل کی شکار حکومت کیلئے نیا تنازع کھڑا کر دیا‘ وزیراعظم اب خاموش رہتے ہیں تو ان کی گرتی ہوئی ساکھ کو نقصان پہنچے گا اور یہ اگر بول پڑتے ہیں تو بھی ان کے مسائل میں اضافہ ہو جائے گا‘ نریندر مودی نے پاکستانی جمہوریت کے خلاف ایک جال بچھا دیا ہے‘ میاں نواز شریف کی ایک غلطی انہیں 12 اکتوبر 1999ء کی طرف لے جائے گی چنانچہ احتیاط لازم ہے کیونکہ لوکل دھرنے کو اب انٹرنیشنل پولیٹیکل سپورٹ بھی مل رہی ہے۔

_origin_LAUKI-IR-BRINISKIGI-6
میں واپس نیلم وادی کی طرف آتا ہوں‘ ٹیٹوال سے ہمارا اگلا پڑاؤ کیرن تھا‘کیرن ایک لائف ٹائم تجربہ ہے‘ پاکستان کے ہر باشعور شخص کو زندگی میں ایک بار کیرن ضرور جانا چاہیے‘ یہ پہاڑوں میں گھری ہوئی سرسبز اور شاداب وادی ہے‘ آپ کو چاروں اطراف سے بلند و بالا پہاڑ گھیر لیتے ہیں‘ آپ دریائے نیلم کے کنارے کھڑے ہو جائیں‘ آپ کے بالکل سامنے دریا کے دوسرے کنارے مقبوضہ کشمیر ہے‘ بھارتی مورچے پتھر پھینکنے کے فاصلے پر ہیں‘ دریا کا ایک کنارہ پاکستان ہے اور دوسرا کنارہ بھارت (مقبوضہ کشمیر)۔ آپ کو دوسری طرف فصلیں بھی دکھائی دیتی ہیں‘ مکان بھی‘ مال مویشی بھی اور چمنیوں سے نکلتا ہوا دھواں بھی اور آپ کی ناک کے بالکل سامنے لکڑی کی خوبصورت مسجد بھی ہوگی۔ اذان ادھر ہوتی ہے اور نماز ادھر‘لوگ آواز وہاں سے لگاتے ہیں اور جواب ادھر سے آتا ہے‘ دریا آپ کے دائیں بازو گھومتا ہے‘ مقبوضہ علاقہ بھی دریا کے ساتھ دائیں گھوم کر آپ کو گھیر لیتا ہے‘ آپ خود کو نیم دائرے میں گھرا ہوا محسوس کرتے ہیں‘ آپ کے سامنے اور دائیں جانب بھارت ہے اور پیچھے اور بائیں جانب پاکستان اور آپ وہاں یقین اور بے یقینی کے عالم میں پریشان کھڑے رہ جاتے ہیں اور میں بھی وہاں پریشان کھڑا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی آزاد کشمیر کہاں ہے اور مقبوضہ کشمیر کہاں ہے؟ میرے سامنے بھی فوجی تھے اور پیچھے بھی‘ مجھے محسوس ہوا مجھے سامنے سے بھی گولی ماری جا سکتی ہے اور پیچھے سے بھی‘ میں ہر لحاظ سے ’’ان دی لائین آف فائر‘‘ تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…