فوجیں مورچوں سے ان لوگوں کی نگرانی کرتی ہیں‘ یہ انتہائی جذباتی جگہ ہے‘ یہاں ہر سال ایسے درجنوں واقعات پیش آتے ہیں جو سنگدل سے سنگدل انسان کو تڑپا دیتے ہیں‘ لوگ اپنے عزیزوں کو سامنے دیکھ کر تیز رفتاردریا میں چھلانگ لگا دیتے ہیں‘ یہاں کے لوگ ایک ماں اور اس کے دو بیٹوں کا قصہ سناتے ہیں‘ ماں مقبوضہ علاقے میں تھی اور بیٹے آزاد علاقے میں۔ یہ عید پر ایک دوسرے کو دیکھنے آئے‘ ماں نے بچوں کو دیکھا تو فرط جذبات میں دریا میں چھلانگ لگا دی‘بیٹے بھی بے تاب ہو گئے‘ وہ بھی پانی میں کود گئے اوریوں تینوں بہہ کر ماضی کا قصہ بن گئے‘ ٹیٹوال میں لکڑی کا ایک پل بھی ہے‘ یہ پل آدھا پاکستان میں ہے اور آدھا بھارت میں‘ درمیان میں سفید لکیر لگا کر اسے تقسیم کیا گیا ہے‘ دونوں حکومتیں پرمٹ دے کر ہر سال چند درجن کشمیریوں کو یہ پل پار کرنے کی اجازت دیتی ہیں‘ پرمٹ کا عمل بہت مشکل ہے‘ کشمیری اسے آسان دیکھنا چاہتے ہیں‘سڑک ٹیٹوال سے لوات تک لائین آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ چلتی ہے‘ ہم نے کھلی آنکھوں سے بھارتی فوجیوں کو مورچوں سے جھانکتے اور ایل او سی پر چہل قدمی کرتے دیکھا‘ بھارتی پوسٹیں بھی صاف نظر آتی ہیں‘ یہ سڑک 2003ء تک ناقابل استعمال تھی‘ دونوں طرف سے بھاری گولہ باری اور فائرنگ ہوتی تھی‘ مقامی آبادی نقل مکانی پر مجبور ہو چکی تھی‘ جنرل پرویز مشرف نے 2003ء میں اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ مل کر ایل او سی پر امن قائم کر دیا‘ نیلم میں امن ہوا‘ لوگ آزادانہ نقل و حرکت کرنے لگے‘ آج نیلم روڈ پر ٹریفک رواں دواں رہتی ہے‘ مورچے موجود ہیں لیکن فائرنگ نہیں ہوتی‘ لوگ جنرل مشرف کو روزانہ ہزاروں دعائیں دیتے ہیں‘ عید کے دنوں میں چاروا‘ سجیت گڑھ‘ ہرپال‘ بجوات‘ شکرگڑھ اور چپراڑ کی ایل او سی پر لڑائی شروع ہو گئی‘ لڑائی کی خبریں نیلم پہنچیں تو لوگ پریشان ہو گئے‘ لوگ یہاں امن چاہتے ہیں‘




















































