
ہم اگلے دن کیرن روانہ ہو گئے‘ مظفر آبادکے دو مقامی صحافی راجہ وسیم اور مرزا اورنگ زیب ہمارے گائیڈ تھے‘ یہ دونوں پڑھے لکھے‘ مہذب اور متحرک نوجوان ہیں‘ ہم دو دن میں ان کے گرویدہ ہو گئے‘ ہم دریائے نیلم کے ساتھ ساتھ بلندی کی طرف سفر کر رہے تھے‘ راستے میں ’’نیلم جہلم پراجیکٹ‘‘ آیا‘ بجلی کا یہ منصوبہ 17برس تک ہماری روایتی سستی کا شکار رہا‘ موجودہ حکومت نے اس پر خصوصی توجہ دی‘ اس منصوبے پر اب دن رات کام ہو رہا ہے‘ یہ اگر وقت پر مکمل ہو گیا تو لوڈ شیڈنگ میں خاصی کمی آ جائے گی‘ میں نے گاڑی کی کھڑکی سے نیلم جہلم پراجیکٹ دیکھا اور میں کشمیریوں کی وسعت قلبی اور وژن کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکا‘ منگلا ڈیم ہو یا نیلم جہلم پراجیکٹ کشمیری عوام نے کبھی کسی تعمیری منصوبے کو تعصب کی نظروں سے نہیں دیکھا‘ انہوں نے ہمیشہ خوش دلی سے ملکی منصوبوں کی اجازت دی جبکہ ہم چالیس سال سے کالا باغ ڈیم پر لڑ رہے ہیں‘ ہم اس سے تعصب کا زہر نہیں نکال سکے‘ کاش ہم کشمیریوں ہی سے دل کھلا رکھنے کا ہنر سیکھ لیں‘ نیلم ویلی کے راستے میں ٹیٹوال کا گاؤں آتا ہے‘ ٹیٹوال کے دو حصے ہیں‘ ایک حصہ آزاد کشمیر میں شامل ہے جبکہ دوسرا حصہ مقبوضہ کشمیرکے قبضے میں ہے‘ درمیان میں سوفٹ کا دریائے نیلم بہتا ہے‘ ہم لوگ وہاں رک گئے‘ دریا کے دوسری طرف بھارتی ٹیٹوال تھا‘ دور دور تک گھر بکھرے تھے‘ سامنے سکول کی عمارت تھی‘ عمارت پر بھارتی جھنڈا لہرا رہا تھا‘ میدان میں باسکٹ بال کے پول لگے تھے‘ لوگ بھی چل پھر رہے تھے‘ بھارتی حکومت نے آزاد کشمیر کے لوگوں کو متاثر کرنے کیلئے بھاری سرمایہ لگا کر ٹیٹوال قصبے کو ’’سوئس لک‘‘ دے دی جبکہ ہماری سائیڈ سے غربت اور بے ترتیبی جھلکتی تھی‘ پاکستانی اور بھارتی دونوں اطراف پر دریا کے کنارے چٹانوں کاچھوٹا سا سلسلہ تھا‘ یہ چٹانیں کشمیریوں کا ’’کمیونیکیشن نیٹ ورک‘‘ ہیں‘ پاکستان اور بھارت دونوں سائیڈز پر موبائل فون سروس نہیں چنانچہ عید اور شب رات جیسے تہواروں پر دونوں سائیڈوں کے کشمیری ان چٹانوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور اونچی آواز میں ایک دوسرے کی خیریت معلوم کرتے ہیں‘ یہ خط لکھ کر پتھر میں لپیٹ کر بھی ایک دوسرے کی طرف پھینکتے ہیں‘ دونوں طرف فوجی مورچے ہیں‘



















































