جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

وہ 8 ملک جو 20 سالوں میں ختم ہوجائیں گے

datetime 19  اپریل‬‮  2016 |

دنیا بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ سیاسی، معاشی اور اب ماحولیاتی مسائل اس تیزی سے جنم لے رہے ہیں کہ بہت سارے ممالک کی بقا کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ ہم آپ کے لیے ان چند ممالک کی فہرست پیش کر رہے ہیں جن کا اگلے 20 سال تک موجودہ صورت میں برقرار رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اسپین ہو سکتا ہے آپ میں سے بہت سارے افراد کے لیے بات حیران کن ہو لیکن ماضی کی بڑی طاقتوں میں سے ایک اسپین اب 2008ء سے زوال کے قریب کھڑا ہے۔ بدترین معاشی بحران کے دوران اسپین کے 24 فیصد شہری بے روزگار ہیں اور جی ڈی پی اور قرضوں کا تناسب بھی بہت خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ لیکن مسئلہ صرف معاشی نہیں ہے بلکہ اسپین کے دو علاقوں کا آزادی کے لیے بے تاب ہونا بھی ہے، جو اگلے 20 سالوں میں باآسانی علیحدہ ہو سکتے ہیں۔ مغربی اسپین میں قطالونیہ کا علاقہ ہے جہاں آزادی کی زبردست تحریک چل رہی ہے جو مقبولیت کی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ قطالونیہ کے عوام کے باقی اسپین کے ساتھ بہت کم تعلقات ہیں اور یہ معاشی طور پر زیادہ خوشحال بھی ہیں۔ 2013ء میں یہاں کی تحریک آزادی کے کارکنان نے 300 میل لمبی انسانی زنجیر بنائی تاکہ اس علاقے کو اسپین کے دیگر علاقوں سے کاٹ دیں۔ پھر شمالی اسپین کا باسک علاقہ بھی ہے جو پرتشدد تحریک آزادی کی بڑی تاریخ رکھتا ہے۔ یہاں کے عوام تو ہسپانوی تک نہیں بولتے بلکہ ان کی اپنی زبان اور ثقافت ہے۔ دیکھتے ہیں اسپین کب تک اس دوطرفہ دباؤ کو جھیل پاتا ہے۔ شمالی کوریا دنیا جہاں سے کٹا ہوا ایک تنہا ملک شمالی کوریا۔ یہ دنیا کے ترقی یافتہ، امیر اور طاقتور ترین ممالک کے درمیان واقع ہے لیکن جدید دنیا سے بالکل الگ ہے۔ خود انحصاری کی کوشش کرنے والے شمالی کوریا کے پاس اتنے وسائل ہی نہیں کہ وہ 21 ویں صدی میں زندہ رہ سکے۔ شمالی کوریا کو لازمی اپنی تجارت اور تعاون کے دروازے دنیا پر کھولنا ہوں گے اور اگر ایسا ہوا تو یہاں کی آمرانہ حکومت کے لیے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ اس وقت یہاں کم جونگ ان کی حکومت ہے جو لازماً اصلاحات کی کوشش کرے گی اور اس صورت میں اپنے پاؤں پر کلہاڑی ہی مارے گی کیونکہ ایک غلطی ان کی گرفت کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ بلجیم بلجیم کے عوام نسلی بنیادوں پر تقسیم ہیں۔ ملک میں دو واضح علاقے ہیں ایک فلینڈرز اور دوسرا والونیا اور دونوں کے درمیان بہت کم چیزیں ہی مشترک ہیں۔ جنوب میں والونیا ہیں، جو ایک تقریباً خودمختار علاقہ ہے جس کے عوام فرانسیسی بولتے ہیں۔ یہاںکے عوام آزاد والونیا بلکہ فرانس سے الحاق تک کی بات کرتے ہیں جبکہ شمالی علاقہ فلینڈرز نسلاً فلیمش باشندوں کا حامل ہے اور ان میں بھی آزاد فلینڈرز کے حامی موجود ہیں۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ اگلے 20 سالوں میں ہمیں بیلجیئم کی جگہ دو نئی آزاد ریاستیں یورپ میں نظر آئیں۔ عراق عالمی طاقتوں کی آماجگاہ بلکہ شکارگاہ بننے کے بعد اب عراق ایک نئے ہنگامے سے دوچار ہے۔ داعش نے عراق کے اندر موجود تقسیم کو مزید بڑھا دیا ہے۔ عراق ویسے ہی ایک غیر فطری ریاست تھا جسے پہلی جنگ عظیم میں فاتح برطانیہ نے قائم کیا تھا، وہ بھی علاقے کی ثقافتی، مسلکی اور لسانی تقسیم کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر۔ بعد ازاں صدام حسین نے اپنے جابرانہ اقتدار کے ذریعے اس کو متحد رکھا لیکن امریکا کے قبضے کے بعد اب یہ ملک حالات کے رحم و کرم پر ہے۔ شمال میں کرد بولنے والے ہیں، مغرب میں سنیوں کی اجارہ داری ہے تو جنوب اور جنوب مشرق میں شیعہ اکثریتی علاقے ہیں۔ ایک متحدہ عراق کے لیے پہلے تو انہیں داعش کو شکست دینا ہوگی اور پھر کئی معاملات میں ایک دوسرے کی مخالفت کرنے والے ان گروہوں کو اتفاق کرنا ہوگا، جو فی الحال تو مشکل دکھائی دیتا ہے۔ خدشہ یہی ہے کہ اگلے 20 سالوں میں ہمیں عراق کی جگہ کم از کم تین ریاستیں نظر آئیں گی۔ لیبیا شمالی افریقہ کے ملک لیبیا کا حال بھی یہی ہے۔ یہ بھی نوآبادیاتی دور کی پیداوار ہے، ایک ایسا ملک جس کا تاریخ میں کبھی کوئی وجود نہیں رہا، پہلے اطالوی قبضے میں رہا اور پھر معمر قذافی کی آہنی گرفت میں متحد رہا لیکن جیسے ہی 2011ء کی خانہ جنگی میں قذافی حکومت کا خاتمہ ہوا، اب ریاست کا شیرازہ بکھرنے کے قریب ہے طرابلس، برقہ اور فزان نامی تین علاقے ہیں جہاں لوگ ایک مصنوعی طور پر بنائی گئی ریاست سے زیادہ اپنے قبائل سے وفادار ہیں۔ اس وقت ملک میں دوسری خانہ جنگی جاری ہے اور خدشہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ایک متحدہ لیبیا باقی نہیں بچے گا۔ برطانیہ کبھی وہ زمانہ تھا کہ ”برطانیہ کی سرحدی حدود کے اندر سورج غروب نہیں ہوتا تھا،“ ماضی کی یہ سپر پاور اب سکڑ کر محض جزیرہ برطانیہ تک محدود ہوگئی ہے اور اکیسویں صدی میں تو یہاں بھی اسے بقا کا مسئلہ درپیش ہے۔ اسکاٹ لینڈ میں 2014ء میں آزادی کے لیے ریفرنڈم ہوا جو بظاہر تو ناکام ہوا لیکن یہ اسکاٹ باشندوں کے ارادوں کو ظاہر کرنے کے لیے کافی تھا۔ یہی نہیں بلکہ شمالی آئرلینڈ اور ویلز میں بھی خود مختاری کی تحریکیں موجود ہیں اور اگر ان میں سے کوئی بھی علاقہ آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تو برطانیہ عظمیٰ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ امریکا امریکا بہت بہت بڑا ملک ہے، اس کی صرف ایک ریاست ٹیکساس ہی رقبے میں پاکستان سے بڑی ہے۔ امریکی خانہ جنگی کے عہد میں جو اختلافات تھے، ان میں سے کئی آج بھی پائے جاتے ہیں۔ پھر سیاسی و ثقافتی تفریق بھی ہے اور نسلی بھی۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ آیندہ 20 سالوں میں چند ریاستہائے متحدہ امریکا کے وفاق کی زنجیر توڑ دیں۔ ان میں جن ریاستوں کے الگ ہونے کا خطرہ سب سے زیادہ ہے وہ الاسکا اور ٹیکساس ہیں اور یہ بھی صرف موجودہ خطرہ ہے۔ چین کے مقابلے میں امریکا نمبر ایک معاشی طاقت کا اعزاز تو کھوچکا ہے، لیکن اگر اگلی دو دہائیوں میں عسکری منظرنامے پر بھی ایسی کوئی تبدیلی رونما ہوئی تو معاملہ صرف دو ریاستوں تک محدود نہیں رہے گا اور امریکا کا حال بھی روس جیسا ہوگا۔ مالدیپ بحر ہند میں واقع دنیا کے خوبصورت ترین جزائر مالدیپ کو سیاسی، ثقافتی، مذہبی اور لسانی تفریق کا نہیں بلکہ ماحولیات کے مسائل کا سامنا ہے۔ یہ جزائر سطح سمندر میں ہونے والے اضافے کے نتیجے میں بقا کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ یہاں تک کہ ایک سابق صدر نے جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں زمین خریدنے تک کی کوشش کی تاکہ عوام کو وہاں منتقل کر سکیں، اس سے پہلے کہ ان کا پورا ملک ڈوب جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…