جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

! وہ شہر جس نے پانچ نوبل انعام یافتہ شخصیات پیدا کیں

datetime 6  اپریل‬‮  2016 |

ڈاکٹر سید مشتاق اسماعیل نے جامعہ کراچی سے ایم ایس سی کرنے کے بعد فرانس کی جامعہ پیرس سے پوسٹ گریجویٹ اوربرطانیہ کی مشہور جامعہ برسٹل سے پی ایچ ڈی کی۔ انہوں نے ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کی سربراہی میں خاصاتحقیقی کام کیا‘ جرمنی کے سائن داں پروفیسر جارج ہان کے ساتھ کالا باغ کے خام لوہے سے فولاد بنانے کے منصوبے پر کام کیا۔ وہ جرمنی کی مشہور درس گاہ ڈارم شٹاٹ ہوخ شولے میں دو برس مہمان لیکچرر رہے‘پھر1979ء میں لیبیا کی جامعہ الفاتح سبہا میں کیمیا کے پروفیسر بھی رہے۔ڈاکٹر صاحب نے دنیا کے کئی ممالک میں خدمات انجام دیں‘اس دوران ہوئے تجربات اور یادگار واقعات کو قلم بند بھی کیا۔ڈاکٹر سید مشتاق اسماعیل1957 ء سے 2002 ء تک کے طویل عرصے تک سائنسی درس و تدریس کے شعبے میں اعلیٰ خدمات سر انجام دینے اور ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد آج کل اپنا وقت کراچی‘ فورٹ سمتھ‘ ارکانساس‘ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں گزارتے ہیں۔ 01 مغلیہ سلطنت کے زمانے میں ہندوستان میں تین دارالحکومت تھے۔ ایک دارالحکومت دہلی تھا جس کو مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر اور اس کے بیٹے شہنشاہ نصیر الدین ہمایوں نے بنایا‘اس کے بعد شہنشاہ جلال الدین اکبر نے آگرہ کے پاس فتح پور سیکری میں اپنا نیا دارالحکومت بنایا مگر فتح پور سیکری اکبر کی زندگی تک ہی دارالحکومت رہا‘ اس کے بعد وہ شہر بس نہ سکا ۔ البتہ شہنشاہ شاہجہاں نے آگرہ کو اپنا دارالحکومت بنایا اور اسی شہر میں دنیا کی خوبصورت ترین عمارت تاج محل بنائی۔ یہ عمارت اس نے سفید سنگ مرمر سے دریائے جمنا کے کنارے اپنی چہیتی بیگم ممتاز محل کی یاد میں اس کے مقبرے کے طورپر بنائی۔ اس کا ارادہ تھا کہ دریائے جمنا کے دوسر ی طرف سیاہ مرمر کے پتھر سے اپنے لئے ایک سوگوار مقبرہ دوسرا سیاہ تاج محل بنائے۔ اس کے لئے اس نے پتھر منگوالئے تھے جو آج تک وہاں پڑے ہوئے ہیں مگر شاہجہاں کے بیٹے شہنشاہ محی الدین اورنگزیب عالمگیر نے مہلت نہ دی اور شاہجہاں کو معزول کر کے آگرہ کے قلعے میں قید کر دیا جہاں وہ ایک شیشے پر تاج محل کا عکس دیکھتا رہتا تھا۔ شہنشاہ اکبر کے بیٹے اور شہنشاہ شاہجہاں کے باپ شہنشاہ نور الدین جہانگیر نے دریائے راوی کے کنارے لاہور کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ جہانگیر نہایت نازک مزاج بادشاہ تھا۔ اس کو شمالی ہندوستان کی گرمی سے سخت پریشانی ہوتی تھی۔ وہ گرمی میں کشمیر جنت نظیر چلاجاتا تھا اور لاہور کشمیر کے راستے میں پڑتا تھا۔ کسی نے کشمیر کے لئے یہ شعر کہا تھا: اگر فردوس بر روئے زمیں است ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است

05 مشہور شاعر جان ملٹن نے اپنا شاہرہ آفاق نظم PARADISE LOSTمیں لکھا ہے کہ جب اللہ میاں نے حضرت آدم کو جنت سے نکالا تو اوپر سے دنیا دکھائی اور مغلوں کا شہر لاہور دکھایا اور کہا کہ دیکھو ٗ دنیا ہم نے تمہارے لئے کتنی خوبصورت جگہ بنائی ہے۔ لاہور میں مغلوں نے بہت سی عمارتیں بنائیں‘ بادشاہی مسجد ٗ شالامار باغ اور خود شہنشاہ جہانگیر کا مقبرہ جو دریائے راوی کے دوسرے کنارے پر اس کی چہیتی بیگم ملکہ نور جہاں نے بنوایا تھا ۔ آپ بادشاہی مسجد کے کسی مینار پر چڑھ جائیں تو اوپر سے جہانگیر کے مقبرے کے صرف تین مینار نظر آئیں گے۔ چوتھا مینار پیٹھے چھپ جاتاہے۔ اسی طرح جہانگیر کے مقبرے کے کسی مینارسے بادشاہی مسجد کے صرف تین مینار نظر آئیں گے۔جیو میٹری میں اس کوPARRALEXکہتے ہیں۔

گووندکھورانا نے صاف لفظوں میں اعلان کیا ’’میں پہلے برطانوی شہری تھا اب امریکی ہوں‘ میں کبھی بھی ہندوستانی نہیں رہا ٗ ہاں البتہ میں لاہوری ضرور ہوں‘‘

03 مغلوں کے زوال کے بعد سردار رنجیت سنگھ نے اپنی سلطنت بنائی۔ اس کا دارالحکومت بھی لاہور ہی تھا جہاں بادشاہی مسجد کے پہلو میں رنجیت سنگھ کی سمادھی واقع ہے۔ پنجاب کی فتح کے بعد انگریزوں نے لاہور کو صوبہ پنجاب کادارالحکومت قرار دیا اور قلعے کے باہر کئی عمارتیں بنوائیں جن میں سے سب سے بڑی شاہراہ مال روڈ پر جامعہ پنجاب کی خوبصورت عمارت بنائی۔ جامعہ پنجاب پاکستان کی قدیم ترین جامعہ ہے جو شروع شروع میں تو جامعہ کلکتہ سے ملحق رہی مگر بعد میں اس کو خودمختار حیثیت حاصل ہو گئی۔ جامعہ کے سامنے ایک نہایت خوبصورت عمارت ہے جہاں لاہور کا عجائب خانہ قائم ہے۔ اس عجائب خانے کا محافظ ایک شخص ہوتا تھا جس کا نامKIPLINGتھا۔اس نے لاہور کالج آف آرٹ بھی قائم کیا تھا۔اس کا بیٹاRUDYARD KIPLINGعجائب خانے کے سامنے مال روڈ پر رکھی ہوئی ایک نہایت عظیم الشان توپ پر کھیلا کرتا تھا اور دن میں خواب دیکھا کرتا تھا۔ بعد میں اس توپ کا نام”KIM’S GUN” پڑ گیا ۔ جب وہ جوان ہوا تو اس نے اپنے دن میں خواب دیکھنے کی کہانی ایک کتاب کی شکل میں لکھ دی۔ اس کتاب کا نام”KIM”تھا ۔ اس کتاب پرRUDYARD KIPLINGکو1907ء میں ادب کا نوبل انعام ملا انگریزی زبان میں لکھی جانے والی کتاب پر کسی کو ملنے والا یہ پہلا نوبل انعام تھا KIPLINGنے بعد میں لاہور کے اخبار ’’ سول اینڈ ملٹری گزٹ‘‘ کے مدیر کی حیثیت سے کام کیا۔ ان کا دفتر لاہور کے عجائب خانے کے قریب ہی واقع تھا ۔ یہ اخبار پاکستان بننے کے بعد تک شائع ہوتا رہا۔

02 جامعہ پنجاب میں کیمسٹری کے شعبے میں ایک پروفیسر تھے شانتی سروپ بھٹناگر جو بعد میںICSIRکے چیئرمین بنے۔ ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی انہی کے ماتحتICSIRدہلی میں ڈائریکٹر تھے۔ بھٹناگر نے ایک ترازو ایسی بنائی کہ اس کے ایک بازو کے چاروں طرف ایک برقی مقناطیس لپیٹ دیا۔ اس نے وہ یہ ناپا کرتے تھے کہ کسی چیز کا وزن مقناطیسی میدان میں اتنا ہی رہتا ہے ٗ کم ہوتا ہے یا زیادہ ہو جاتا ہے اس طرح کیمسٹری میں ایک نئی شاخMAGNETO-CHEMISTRYکی بنیاد پڑی اس ترازو کی شہرت سن کر انگلستان سے ایک صاحب آئے جن کا نامCOMPTON تھا۔ انہوں نے اس پر کام کیا اور ان کے مقالے پر ان کو1927ء میں طبیعات کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ ایک صاحب تھے گووندکھورانا (GOVIND KHORANA) جو پیدا تو ملتان میں ہوئے تھے مگر ساری تعلیم کالجوں کے شہر لاہور میں حاصل کی تھی۔ وہ جامعہ پنجاب سے ایم ایس سی کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں استاد کی حیثیت سے کام کرنے کے بعد آزادی کے وقت1947ء کے ہنگامے کے زمانے میں امریکہ جا کر وہیں سکونت پذیر ہو گئے۔1968ء میں جینیات(GENETICS)پر کئے گئے ان کے کام پر ان کو میڈیسن کا نوبل انعام ملا۔ ان کے نوبل انعام ملنے پر ہندوستان نے بڑی دھوم مچائی کہ ایک ہندوستانی کو نوبل انعام مل گیا ہے مگرگووندکھورانا نے صاف لفظوں میں اعلان کیا: ’’میں پہلے برطانوی شہری تھا اب امریکی شہری ہوں ۔ میں کبھی بھی ہندوستانی نہیں رہا ٗ ہاں البتہ میں لاہوری ضرور ہوں‘‘۔

14 لاہور کے مضافات مغل پورہ میں ریلوے کی ایک ورکشاپ ہے جس میں جنوبی ہندوستان کے ایک انجینئر کام کرتے تھے ٗ ان کا نا م تھا سبرامنیم (SUBRAMANIUM)۔ ان کا بیٹا چندراشیکھر(CHANDARA SHEKHAR)نہ صرف لاہور ہی میں پیدا ہوا بلکہ اس نے وہیں ساری تعلیم بھی پائی۔ جامعہ پنجاب سے ایم ایس سی کر کے وہ امریکہ سدھار گیا۔ اس نے کائنات میںBLACK HOLE دریافت کئے۔ اس کو1983ء میں طبیعات کے نوبل انعام سے نوازاگیا اس کے نام پر ’چندرا‘ نامی ایک دور بین(TELESCOPE) بھی خلا میں بھیجی گئی ہے اس نے بھی اعلان کیا کہ ہندوستانی نہیں ٗ البتہ لاہوری ضرور ہے۔

اس کے بعد عبدالسلام نامی ایک شخص کو جو جھنگ میں پیدا ہوا اور میٹرک سے لے کر ایم ایس سی تک ہمیشہ اول آیا 1979ء میں طبیعات کا نوبل انعام ملا۔ اس کے کام ٗ یعنی وشنی ٗ مقناطیسیت ٗ کشش ثقل ٗ حرارت ٗ توانائی ٗ ان سب کو ملا کر ایک وحدانیت(UNIFIED FIELD THEORY) ثابت کرنے پر ملا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے بعد میں اٹلی کے شہر ٹرسٹ(TRIESTE) میں ایک ادارہ ٗ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف تھیوریٹیکل فزکس ٗ کے نام سے قائم کیا۔ اس طرح شہر لاہور کو یہ فخر حاصل ہے کہ یہاں یکے بعد دیگرے پانچ نوبل انعام یافتہ افراد پیدا ہوئے کیا دنیا کے کسی دوسرے شہر کو یہ فخر حاصل ہے؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…