میں نے خود سے یہ ہی کہا کہ اگر یہ فیصلہ غلط ہوا تو میں اس کار کو فوراً فروخت کر دوں گا ۔ خوش قسمتی سے اس فیصلے نے میری ترقی میں اہم کردار ادا کیا ۔ میں بنگور میں اتنی مہنگی کار کرائے پر دینے والا پہلا فرد بن گیا ، کسی دوسرے رینٹ اے کار والے کے پاس اتنی مہنگی گاڑی نہیں تھی ، اس بات نے میرا سر فخر سے بلند کر دیا ‘‘۔ رمیش کا کہنا ہے کہ اس کے بعد میں نے مزید لگژری کاریں خریدیں ۔

اس طرح جب میں نے 2011ء میں رولز رائس خرید رہا تھا تو اس وقت بھی بہت سے لوگوں نے مجھے اس انتہائی مہنگی کار کو خریدنے سے منع کیا ، میں نے سب سے یہ ہی کہا کہ میں 10 سال پہلے بھی ایسا ہی ایک رسک لے چکا ہوں ۔ مجھے پورا یقین تھا کہ تقریباً 4 کروڑ روپے مالیت کی رولز رائس مجھے جلد ہی اس سے زیادہ کما کر دے گی اور 3 سال بعد ، دسمبر 2014ء تک اسی کار نے مجھے حقیقی سرمائے سے زیادہ کما کر دیا ‘‘۔ رمیش کا کہنا ہے کہ ٹیکس کی شرح میں تیزی سے ہونے والے اضافے کی وجہ سے ہم نے اپنے کاروبار کو مزید نہیں بڑھایا تھا ۔ تاہم 2015ء میں کچھ لیموزین اور اسی نوعیت کی گاڑیوں کو اپنے بیڑے میں شامل کریں گے ۔ اس وقت رمیش کے پاس 2سو سے زائد قیمتی گاڑیاں ہیں ۔



















































