ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

ارب پتی حجام ،جو آج بھی روزانہ 100 روپے میں لوگوں کے بال کاٹتا ہے ۔

datetime 2  اپریل‬‮  2016 |

والد نے ورثے میں صرف ایک باربر شاپ چھوڑی تھی ، جسے میرا ایک عزیز چلا رہا تھا اور ہمیں 5 روپے یومیہ دیا کرتا تھا ۔ 5 روپے کی یہ معمولی رقم میری اور میرے بہن بھائیوں کے تعلیمی اور دیگر اخراجات بھی پورے نہیں کر پاتی تھی ۔ ان دنوں ہم ایک وقت کا کھانا بھی پیٹ بھر کر نہیں کھا پاتے تھے ۔ اس تمام عرصے میں ، میں گھروں میں اخبار ڈالنے ، الیکٹریشن ، چپڑاسی اور دودھ کی بوتلیں بیچنے کا کام بھی کرتا رہا ۔ جس سے مجھے زیادہ سے زیادہ 5 روپے روز ملتے تھے ‘‘ ۔ رمیش کا کہنا ہے کہ ’’ میری زندگی میں اہم موڑ اس وقت آیا جب والد کی دکان چلانے والے رشتے دار نے ہمیں پیسے دینے سے انکار کر دیا ۔ اس وقت میری عمر 19 سال تھی ۔ میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ دکان واپس لے کر ہمیں اپنے طور پر اسے چلانا چاہیے ، تاہم انہوں نے سختی سے اس بات کی مخلافت کرتے ہوئے کہا کہ میری اولین ترجیح تعلیم ہونی چاہیے ۔
لیکن میں نے اپنی دکان پر کام کرنا شروع کر دیا ۔ صبح میں دکان ، شام میں کالج اور وہاں سے واپس دکان چلا جاتا تھا ۔ 1994ء میں ، میں نے اپنی تمام جمع پونجی اکٹھی کرکے اور بینک سے قرضہ لے کر ایک پرانی ماروتی وین خریدی ۔ جس گھر میں ماں کام کرتی تھی ، اس کی مالکہ نے مجھے ایک مفید مشورہ دیا ، جس نے میری زندگی میں انقلاب برپا کر دیا ۔ اس نے مجھ سے کہا کہ بلاوجہ گاڑی کو اِدھر اُدھر گھمانے کی بجائے کرائے پر کیوں نہیں چلاتے ۔ اس نے مجھے رینٹ اے کار کے کاروبار کی کچھ باتیں سمجھائیں ، اسکے بعد میں نے رینٹ اے کار کا کام شروع کر دیا ۔ یہ ماروتی وین آج بھی میرے پاس موجود ہے اور اب میں اسے کرائے پر نہیں دیتا ۔ 2004ء تک میرے پاس 6 کاریں ہوگئی تھیں ۔ اس وقت تک میری زیادہ توجہ اپنی حجام کی دکان پر تھی ، کیونکہ مسابقت کی وجہ سے رینٹ اے کار کے کاروبار میں منافع کی شرح کم ہوتی جا رہی تھی ۔ ہررینٹ اے کار والے کے پاس چھوٹی کاریں موجود تھیں ۔

11barber1

ایک دن میرے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ میں لگژری کاروں کو کرائے پر دینے کا کام شروع کروں ، کیونکہ اس وقت تک یہ کام کوئی بھی نہیں کر رہا تھا ۔ 2004ء میں جب میں نے 38 لاکھ روپے مالیت کی مرسیڈیز ای کلاس سیڈان خریدنے کا فیصلہ کیا ، تو ہر شخص نے اس کی مخالفت کی ۔ سب نے یہی کہا کہ میں بہت بڑی غلطی کر رہا ہو ۔ اس وقت اتنی بھاری مالیت کی کار ایک بڑی ڈیل تھی ۔ تمام تر خدشات کے باوجود میں نے یہ خطرہ مول لے ہی لیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…