والد نے ورثے میں صرف ایک باربر شاپ چھوڑی تھی ، جسے میرا ایک عزیز چلا رہا تھا اور ہمیں 5 روپے یومیہ دیا کرتا تھا ۔ 5 روپے کی یہ معمولی رقم میری اور میرے بہن بھائیوں کے تعلیمی اور دیگر اخراجات بھی پورے نہیں کر پاتی تھی ۔ ان دنوں ہم ایک وقت کا کھانا بھی پیٹ بھر کر نہیں کھا پاتے تھے ۔ اس تمام عرصے میں ، میں گھروں میں اخبار ڈالنے ، الیکٹریشن ، چپڑاسی اور دودھ کی بوتلیں بیچنے کا کام بھی کرتا رہا ۔ جس سے مجھے زیادہ سے زیادہ 5 روپے روز ملتے تھے ‘‘ ۔ رمیش کا کہنا ہے کہ ’’ میری زندگی میں اہم موڑ اس وقت آیا جب والد کی دکان چلانے والے رشتے دار نے ہمیں پیسے دینے سے انکار کر دیا ۔ اس وقت میری عمر 19 سال تھی ۔ میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ دکان واپس لے کر ہمیں اپنے طور پر اسے چلانا چاہیے ، تاہم انہوں نے سختی سے اس بات کی مخلافت کرتے ہوئے کہا کہ میری اولین ترجیح تعلیم ہونی چاہیے ۔
لیکن میں نے اپنی دکان پر کام کرنا شروع کر دیا ۔ صبح میں دکان ، شام میں کالج اور وہاں سے واپس دکان چلا جاتا تھا ۔ 1994ء میں ، میں نے اپنی تمام جمع پونجی اکٹھی کرکے اور بینک سے قرضہ لے کر ایک پرانی ماروتی وین خریدی ۔ جس گھر میں ماں کام کرتی تھی ، اس کی مالکہ نے مجھے ایک مفید مشورہ دیا ، جس نے میری زندگی میں انقلاب برپا کر دیا ۔ اس نے مجھ سے کہا کہ بلاوجہ گاڑی کو اِدھر اُدھر گھمانے کی بجائے کرائے پر کیوں نہیں چلاتے ۔ اس نے مجھے رینٹ اے کار کے کاروبار کی کچھ باتیں سمجھائیں ، اسکے بعد میں نے رینٹ اے کار کا کام شروع کر دیا ۔ یہ ماروتی وین آج بھی میرے پاس موجود ہے اور اب میں اسے کرائے پر نہیں دیتا ۔ 2004ء تک میرے پاس 6 کاریں ہوگئی تھیں ۔ اس وقت تک میری زیادہ توجہ اپنی حجام کی دکان پر تھی ، کیونکہ مسابقت کی وجہ سے رینٹ اے کار کے کاروبار میں منافع کی شرح کم ہوتی جا رہی تھی ۔ ہررینٹ اے کار والے کے پاس چھوٹی کاریں موجود تھیں ۔

ایک دن میرے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ میں لگژری کاروں کو کرائے پر دینے کا کام شروع کروں ، کیونکہ اس وقت تک یہ کام کوئی بھی نہیں کر رہا تھا ۔ 2004ء میں جب میں نے 38 لاکھ روپے مالیت کی مرسیڈیز ای کلاس سیڈان خریدنے کا فیصلہ کیا ، تو ہر شخص نے اس کی مخالفت کی ۔ سب نے یہی کہا کہ میں بہت بڑی غلطی کر رہا ہو ۔ اس وقت اتنی بھاری مالیت کی کار ایک بڑی ڈیل تھی ۔ تمام تر خدشات کے باوجود میں نے یہ خطرہ مول لے ہی لیا ۔



















































