
رمیش نے اپنی اس پرانی ماروتی وین کو اب تک سنبھال کر رکھا ہوا ہے ، جسے کرائے پر دے کر اس نے اپنا رینٹ اے کار کا بزنس شروع کیا تھا ۔ اس حوالے سے رمیش کا کہنا ہے کہ ’’ ماروتی وین کی اہمیت میری نظر میں رولز رائس یا مرسیڈیز سے بھی زیادہ ہے ۔ مجھے آج بھی اس ماروتی وین کو چلانے میں دنیا کی بہترین لگژری کاروں کو چلانے سے زیادہ لطف آتا ہے ۔ یہ میرے برے وقت کی ساتھی ہے ‘‘ ۔ رمیش کاروباری سوجھ بوجھ اور ترقی کی بدولت بھارت کا تقریباً ہر اخبار اور ٹی وی چینل ان پر دستاویزی فلمز بنا چکا ہے۔ غیر معمولی کامیابی اور انکساری کی بدولت بین الاقوامی تنظیم ’’ ٹیڈٹاک ‘‘ نے رمیش کو ’’ ارب پتی حجام ‘‘ کا خطاب دیا ہے ۔ رمیش کا کہنا ہے کہ ’’ میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا ، میرے والد خاندانی حجام تھے ۔ 1979ء میں جب ان کا انتقال ہوا تو اس وقت میری عمر محض 7 سال تھی ۔ گھر والوں کی کفالت کے لیے میری ماں نے گھریلو ملازمہ کی حیثیت سے کام کرنا شروع کر دیا ۔




















































