رمیش نہ تو سیاست سے وابستہ ہے اور نہ فلم نگری کا کوئی ہیرو ۔ مگر اس کے باوجود شہرت کی بلندیوں تک اس لیے پہنچا ہے کہ اسے انڈیا کا مالدار ترین حجام ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی دکان پر ہر وقت گاہکوں کا رش لگا رہتا ہے ، جن میں فلمی ادکار ، بیوروکریٹس ، اور نامی گرامی سیاست دان بھی ہوتے ہیں ۔ اس شہرت اور گاہکوں کے رش کے باوجود رمیش مارکیٹ ریٹ سے بہت زیادہ معاوضہ بھی وصول نہیں کرتا ۔ محض سو بھارتی روپے میں کوئی بھی شخص اس کروڑ پتی حجام سے بال بنوا سکتا ہے ۔ تاہم رش کے باعث گاہکوں کو پہلے سے بکنگ کرانی پڑتی ہے۔ رمیش بھارت میں’’ ارب پتی حجام‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ وہ دنیا کا واحد حجام ہے جو رولز رائس گاڑی میں اپنی دکان آتا ہے ۔

رمیش گاڑیوں کو کرائے پر دینے کا کاروبار بھی کرتا ہے ۔ اس کے پاس 2 سو سے زائد مختلف گاڑیاں ہیں ۔ جن میں 67 بی ایم ڈبلیو جیسی بیش قیمت کاریں شامل ہیں ۔ ارب پتی اور بیش قیمت کاروں کے مالک ہونے کے باوجود رمیش بابو عجزوانکساری کا نمونہ ہے ۔ رمیش صبح 8 سے 10 بجے تک اپنی دکان پر گاہکوں کی زلفیں تراشتا ہے ۔ 10 سے 4 بجے تک وہ اپنی رینٹ اے کار کے بزنس کو دیکھتا ہے اور پھر دوبارہ اپنی دکان پر واپس آکر 3 گھنٹے بطور حجام کام کرتا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’ مجھے آج بھی اصل خوشی اپنی دکان پر گاہکوں سے ملنے والی 100 روپے کی رقم وصولی کرکے ہوتی ہے ، میری دکان پر 6 افراد کام کرتے ہیں ، لیکن مجھے خود اپنے گاہکوں کی خدمت کرنا زیادہ پسند ہے ، یہ بات مجھے ماضی سے جوڑے رکھتی ہے ، یہ میرا خاندانی کام ہے اور جب تک میرے ہاتھ صحت مند ہیں ، میں لوگوں کی زلفیں تراشتا رہوں گا ‘‘ ۔



















































