وہ پراپرٹی کمپنی روبرٹ جونزہولڈنگس کے جنرل منیجر اور نیوزی لینڈ کے امیر ترین افراد میں شامل ہیں، ان کے اثاثے 52 ملین نیوزی لینڈ ڈالر کے ہیں، لووریج نے مختصر ٹیسٹ کیریئر کے بعد کچھ عرصہ اکیڈمی میں گزرا جہاں کوچز نے ان کا بولنگ ایکشن تبدیل کرنے کی کوشش کی، جب انھیں نیوزی لینڈ کرکٹ میں اپنا مقام نظر نہیں آیا تو وہ پڑھنے کیلیے انگلینڈ کی کیمبرج یونیورسٹی چلے گئے۔
مزید پڑھئے:وہ کرکٹرز جو اب تک پاکستان میں نہ کھیل سکے
جہاں سے واپسی پر ان کے کامیاب دور کا آغاز ہوا،لووریج کہتے ہیں کہ درد کی وجہ سے میں تقریباً بے ہوش ہوگیا تھا، میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ گراؤنڈ سے واپسی پر روتا رہا تھا، دوسرے دن میری سرجری ہوئی، اس کے بعد ٹیسٹ کیریئر ختم ہوگیا۔ کرکٹ سے دور لووریج نے نیوزی لینڈ میں ایک سیاسی تقریر نویس کے طور پر کام کیا، وہ ایک انٹرنیشنل اسکول میں استاد کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ بھارت میں انھوں نے کرکٹ کلب آف انڈیا میں ٹریننگ دی اورسچن ٹنڈولکر کے ساتھ بھی ان کی رفاقت رہی، البتہ لووریج کی کرکٹ ان بلندیوں تک نہیں پہنچ سکی جس کے وہ اہل تھے۔ تین مرتبہ شولڈر انجری کے ساتھ انھوں نے اپنا آخری فرسٹ کلاس میچ 28 برس کی عمر میں کھیلا تھا۔



















































