ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

غریب لکڑہارے کا نام دنیا کے امیر لوگوں میں شامل

datetime 26  مارچ‬‮  2016 |

میرے وہم و گمان سے زیادہ پذیرائی ملی ، میرے ہاں تیار ہونے والا فرنیچر ہاتھوں ہاتھ خریدا جانے لگا تو مجھے اس کام کو بڑھانا پڑا اور1959 ء تک میرا کام اتنا پھیل گیا تھا کہ میری کمپنی میں سو سے زائد کاریگر کام کرنے لگے ، جس کے بعد میں نے اپنے قریبی قصبے میں ایک شوروم بھی کھولا ، دکان سے تیار ہونے والے فرنیچر کو شہر میں بھی پذیرائی ملی ، میرے کام کی عمدگی کو دیکھتے ہوئے ،1960 ء میں سویڈن میں تعمیر ہونے والے ایک ہوٹل نے اپنے لئے فرنیچر کی بکنگ کرائی۔ جس کے بعد پورے ملک میں میرے ہاں بننے والا فرنیچر شہرت کی بلندیو ں پر پہنچ گیا۔ جب بیرون ملک سے بھی ڈیمانڈ آنے لگی تو میں نے1963 ء کو ناروے میں بھی اپنی ایک برانچ کھول لی۔ پھر1969 ء میں ڈنمارک اور1973 ء میں سوئٹزر لینڈ میں بھی شاخیں کھول لیں۔ اب دنیا کے تمام براعظموں کے43 ممالک میں میری کمپنی کی شاخیں قائم ہیں۔ جبکہ اس فرنیچر کمپنی کی کئی ذیلی کمپنیاں بھی کام کر رہی ہیں۔1976 ء سے میں سوئٹزرلینڈ میں رہائش پذیر ہوں اور میری کمپنی ہالینڈ میں بھی رجسٹرڈ ہے۔ انگوارکمپراڈ کا کہنا ہے کہ ’’میرا عملی تجربہ ہے کہ جو شخص اپنے کام میں دلچسپی کے ساتھ بھرپور محنت کرے اور ایمانداری سے اپنے کام میں میعار پیدا کرے ، اس کی ترقی میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ فوربس جریدے کی رپوٹ کے مطابق88 سالہ انگوارکمپراڈ کا کہنا ہے کہ ’’ میں اب بھی روزانہ اپنی کمپنی کی مقامی شاخ میں کام کرتا ہوں ، اس وقت میری کمپنی کے اثاثوں کی مالیت29 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ مگر مجھے اب بھی سائیکل کی سواری پسند ہے اور اپنے بچپن کی وہ تصویریں بھی میرے پاس محفوظ ہیں، جب میں سائیکل پر سرکنڈلے لایا کرتا تھا۔ انگوار کے بقول ’’ میں اپنی غربت کے دن کبھی نہیں بھول سکتا۔ اس لئے میں اب بھی پیدل چلتا ہوں اور بازار سے اپنی ضروریات کی خریداری بھی خود کرتا ہوں ‘‘۔ لکڑہارے سے بین الاقوامی کمپنی کا ما لک بننے والے انگوار کمپراڈ اب اپنے تجربات کے نام سے ایک کتاب ‘‘Commandment furniture dealer’’ کے نام سے تصنیف کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…