تاہم ساتھ ساتھ پڑھائی بھی جاری رکھی۔ میں اپنے والد کے ساتھ جنگل جاکر عمارتی لکڑیاں لاکر بازار میں فروخت کرتے اور اسی پرہمارا پورا گھرانہ پلتا رہا۔ جب میری عمر17 برس ہوئی تو میرے والد کے پاس محفوظ کی ہوئی کچھ رقم تھی ، جسے انہوں نے میرے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ اس رقم سے تم اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھو۔ مگر مجھے تعلیم سے زیادہ تجارت سے لگاؤ تھا ، اسی لئے میں نے علاقے میں ایک چھوٹی سی دکان کھولی۔ جس میں مقامی جنگلات سے لائی جانے والی لکڑیوں کی فروخت کا سلسلہ جاری کیا۔ ابتدا میں میرے والد بھی جنگل سے لکڑیاں لا کر میری دکان میں فروخت کرتے ، تاہم کچھ عرصے کے بعد ہماری معاشی حالت اس قابل ہوگئی کہ میں اپنے کاروبار سے گھر کی اخراجات چلانے لگا اور میرے والد کی مشقت سے جان چھوٹ گئی۔
ابتدا سے جانے کیوں میرے دل میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ ایک دن بڑی کاروباری شخصیت بن جاؤں گا۔ اپنے اس خواب کو پورا کرنے کے میں نے اپنی اس چھوٹی سی دکان کانام ’’ایکیا‘‘ رکھا اور اسے بطور ایک کمپنی متعارف کرنے لگا۔ ’’ایکیا‘‘ کے دو حرف میرے اپنے نام کا حصہ ہیں۔ جبکہ ایک حرف اس جنگل کے نام سے لیا گیا ہے جہاں سے ہم باپ، بیٹا لکڑیاں لایا کرتے تھے اور ایک حروف میرے پیدائشی علاقے سے منسوب ہے۔ اس وقت میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ’’ایکیا‘‘ بعد میں ایک بین الاقوامی کمپنی بن جائے گی۔ انگوار کمپراڈ کے بقول’’ رفتہ رفتہ میرا کاروبار پھیلنے لگا تو1948 ء میں میں نے اپنی دکان کے ساتھ فرنیچر کی تیاری کا کام بھی شروع کیا۔




















































