واضح رہے کہ مذکورہ جریدہ ہر سال دنیا کی مالدار ترین شخصیات کی فہرست جاری کرتا ہے۔ تازہ فہرست میں سویڈن سے تعلق رکھنے والا ایسا شخص بھی شامل ہے ، جو ایک لکڑہارے سے بین الاقوامی کمپنی کا مالک بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ’’انگوارکمپراڈ ‘‘ نامی اس شخص کی کہانی بڑی دلچسپ اور سبق آمیزہے۔ سوئس ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انگوار کمپراڈ نے اپنی داستان اس طرح بیان کی کہ میں1926ء کو سویڈن کے جنوب میں واقع سمالانڈ نامی علاقے میں پیدا ہوا۔ جب میں نے آنکھیں کھولیں تو گھر میں غربت کا بسیرا تھا۔ میرے والد قریبی جنگلات سے لکڑیاں کاٹ کر لاتے اور انہیں بیچ کر بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔ بچپن سے ہی میرے دل میں تجارت کا شوق تھا۔
اپنے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے میں نے5 سال کی عمر سے ہی اپنے والد کے ساتھ جھاڑیوں سے سرکنڈے لا کر اسکول کے بچوں کو فروحت کرنا شروع کیا۔ بچے ان سرکنڈوں سے قلم بناتے تھے۔ جب میری عمر7 برس ہوئی تو میں نے خود قلم بنا کر فروخت کرنے شروع کر دیئے۔ اس کے بعد میرے والد نے میرے لیے ایک تین پہیوں والی لکڑی کی سائیکل بنائی۔ جس پر میں جنگل سے سرکنڈے لاد کرگھر لاتا اور قلم بنا کر قریبی اسکولوں کے باہر اسٹال لگاتا۔ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے میں اپنے اسکول کے اخراجات چلاتا تھا۔ تاہم اس معمولی آمدنی سے تعلیمی سلسلے کومزید آگے بڑھانا میرے لئے مشکل ہوگیا تو12 سال کی عمر سے میں اپنے والد کے ساتھ باقاعدہ جنگل سے لکڑیاں لانے کا کام شروع کیا۔




















































