جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

شوبز کے وہ چمکتے ستارے ۔۔۔ جنہوں نے اپنی زندگی کاسفرغربت کی تاریکی سے شروع کیا

datetime 25  مارچ‬‮  2016 |

مائیکل جیکسن اگرچہ سیاہ فام تھے اور انہیں بھی کئی بار نسلی تعصب کا سامناکرنا پڑا لیکن دنیا میں ان جیسی شہرت شوبز دنیا سے تعلق رکھنے والی اور کسی شخصیت کے حصے میں نہیں آئی۔ ’’ کنگ آف پاپ‘‘ کے نام سے معروف اس اداکار کی میوزک، ڈانس اور فیشن انڈسٹری کیلئے چار دہائیوں تک جاری رہنے والی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ مائیکل جیکسن نے اپنے پروفیشنل کیریئر کاآغاز 1968 میں اپنے بھائیوں کے ہمراہ بنائے گئے گروپ ’’ دی جیکسن‘‘ سے کیا۔ مائیکل جیکسن کو بام عروج تک پہنچانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے اپنی موسیقی سے سیاہ فاموں کیخلاف روا رکھے جانے والے نسلی تعصب کے خاتمے کیلئے کام کیا اور سیاہ فاموں کے اندر آگے بڑھنے کی ہمت جگائی۔ اس حوالے سے ان کے گانے ’’ بیٹ اٹ، ’’ بلی جین‘‘، ’’تھرلر‘‘، ’’ بلیک اور وائٹ‘‘، ’’سکریم‘‘، ’’ کین یو فیل اٹ‘‘ بہت اہم ہیں ۔ درحقیقت یہ مائیکل جیکسن اور سیاہ فاموں کی ہمت بڑھانے والا میوزک ہی تھا جس نے ایم ٹی وی جیسے چینل کو دنیا بھر میں اپنی پہچان بنانے میں مدد دی۔ اس وقت امریکہ میں سیاہ فاموں کی اکثریت ڈرگ ڈیلنگ جیسے جرائم میں ملوث اور منشیات کی عادی سمجھی جاتی تھی، جیکسن کی کوششوں نے ان کے ہم نسلوں کے تشخص میں مثبت تبدیلیاں پیدا کیں ، اس کے اعتراف میں 1984 میں امریکی صدر ریگن نے انہیں بطور خاص ایوارڈ سے نوازنے کی غرض سے وائٹ ہائوس مدعو کیا۔ ان کی متعارف کردہ ڈانس ٹیکنیکس ’’ مون واک‘‘ اور ’’ روبوٹ‘‘ آج بھی نوجوانوں میں بے حد مقبول اور جدید موسیقی سے ہم آہنگ محسوس ہوتی ہیں ۔ بے پناہ شہرت کے باوجود بچپن کے احساس محرومی نے انہیں مختلف قسم کے نفسیاتی عوارض میں بھی مبتلا کردیا تھا، اسی بنا پہ وہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے الزام کی زد میں بھی رہے ۔ درجنوں پلاسٹک سرجریز کی مدد سے اپنے چہرے کی رنگت اور اس کی ساخت میں تبدیلی بھی درحقیقت ان کے سیاہ فام ہونے کے سبب احساس کمتری کا مظہر تھا۔ 25جون 2009 کو وہ سوتے میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے ۔ اس وقت وہ موسیقی کی دنیا سے عارضی طور پر کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد دوبارہ اس میدان میں قدم رکھنے کی تیاریاں کررہے تھے تاہم ان کی شہرت کا یہ عالم تھا کہ ان کی موت کی اطلاع پھیلنے پر ویب ٹریفک کی وجہ سے گوگل، ٹوئٹر، وکی میڈیا اور انسٹینٹ میسنجرز کی سروس کریش ہوگئیں ۔ مائیکل جیکسن نے اگرچہ پوری زندگی ہی ایک متنازعہ شخصیت کے طور پر گزاری لیکن سیاہ فاموں کو دنیا میں نئی پہچان دینے میں انہوں نے بالواسطہ طور پر بہت اہم کردار ادا کیا۔

مورگن فری مین کو ہالی ووڈ کا مقبول ترین سیاہ فام اداکار قرار دیا جا سکتا ہے۔ 76 سالہ مورگن فری مین نے 1964میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور اب تک بیسیوں کامیاب فلموں میں اہم کردار نبھا چکے ہیں ۔ انہیں 4 بار بہترین اداکار کے اکیڈمی ایوارڈ کیلئے نامزد کیا گیا تاہم انہیں کامیابی نہ ہوئی البتہ وہ ایک بار بہترین معاون اداکار کا اکیڈمی ایوارڈ جیت چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ ایک گولڈن گلوب اور 7ایکٹرز گلڈ ایوارڈ بھی ان کے حصے میں آچکا ہے۔ مورگن کے کیریئر کی مشہور ترین فلموں میں رابن ہڈ، سیون،دی ڈارک نائٹ ٹرائلوجی، مارچ آف دی پینگوئنز، دی لیگو مووی، ڈیپ امپیکٹ، دی سم آف آل فیئرز شامل ہیں ۔ اپنے لہجے کی گھن گرج کے باعث مورگن کو متعدد فلموں کی نیریشن کیلئے بھی منتخب کیا گیا ہے۔دیگر سیاہ فام اداکاروں کی طرح مورگن فری مین بھی اپنے بچپن اور شوبز کیریئر میں نسلی تعصب کا نشانہ بنتے رہے ہیں اور اسی بنا پر انہوں نے امریکی صدر باراک اوباما کی 2008کے صدارتی انتخابات کیلئے مہم میں ان کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ مورگن امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں خصوصاً منائے جانے والے مہینے ’’ بلیک ہسٹری منتھ‘‘کے سخت خلاف ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ نسلی تعصب کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب ہم اس بارے میں بات کرنا بند کردیں ۔ جب کوئی وائٹ ہسٹری منتھ نہیں ہے تو پھر بلیک ہسٹری منتھ کا بھی کوئی جواز موجود نہیں ۔ 2001 میں انہوں نے مسسیپی
کے جھنڈے میں جنوبی امریکی باغیوں کی علامت کے خاتمے کیلئے دائر کی گئی درخواست کی بھی حمایت کی تھی کیونکہ یہ بھی سیاہ فاموں سے امتیازی سلوک کی علامت ہے تاہم یہ درخواست رد کردی گئی۔ اپنے خیالات میں بے باک مورگن نے امریکی ٹی پارٹی کو بھی سیاہ فاموں سے امتیازی سلوک برتنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
80 اور90 کی دہائی میں دنیاکی تین مشہور ترین ماڈلز میں سے ایک اور ’’ سپرماڈل‘‘ کا خطاب پانے والی نومی کیمبل معروف جریدوں کے سرورق کی زینت بننے والی پہلی سیاہ فام ماڈل ہیں ۔ نومی 22مئی 1970ئ کو جمیکن رقاصہ ویلری مورس کے ہاں پیدا ہوئیں ۔ ان کا باپ نومی کے پیدا ہونے سے پہلے ہی ان کی ماں کو چھوڑ چکا تھا اور اسی سبب ان کی ماں نے نومی کے برتھ سرٹیفکٹ پر باپ کے خانے میں کوئی نام درج نہ کروایا۔ غریب اور اوپر سے سیاہ فام ہونے کے باعث نومی جس قسم کے مسائل میں گھری رہیں ، اس نے ان کے فنی کیریئر کو بھی بے حد متاثر کیا۔ نومی کے کیریئر کا پہلا فوٹو شوٹ جب برطانوی جریدے ایل میں شائع ہوا تب وہ سولہ برس کی بھی نہ تھیں ۔ اس کے بعد وہ بروس ویبر، ہرب رٹز اور پیٹر لنڈربرگ جیسے کامیاب فوٹوگرافرز کے ساتھ کام کرتی رہیں تاہم انہیں بعض بڑے برانڈز کی جانب سے محض ان کی سیاہ رنگت کی وجہ سے مسترد بھی کیا گیا لیکن نومی کی خوش قسمتی یہ رہی کہ اس وقت کی کامیاب ماڈلزمثلاً امریکن سپر ماڈل کرسٹی ٹرلنگٹن اور کینیڈین ماڈل لنڈا ایوینجلسٹا نے ڈولسے اینڈ گابانا جیسے برانڈز کو واشگاف الفاظ میں انکار کردیا اور کہا کہ ’’اگر آپ نومی کو نہیں لیں گے تو ہم بھی آپ کی کسی اسائنمنٹ کا حصہ نہیں بنیں گے‘‘۔ اس بائیکاٹ کے ایک برس بعد یعنی 1987 میں نومی برطانوی جریدے ووگ کے سرورق پر دکھائی دیں ۔1966 کے بعد یہ پہلی بار تھا جب کوئی سیاہ فام حسینہ سرورق کی زینت بنی۔ نومی کے کیریئر کو آگے بڑھانے میں ان کے مینٹر سینٹ لارنٹ کا بھی اہم کردار ہے جنہوں نے نسلی تعصب برتنے پر فیشن میڈیا کو سبق سکھانے اور
اس کے بائیکاٹ کی دھمکی دی اور یوں نومی کے کیریئر کی راہیں آسان ہوتی چلی گئیں ۔ نوے کی دہائی کے آغاز تک نومی فیشن کی دنیا میں ’’ بگ6‘‘ کہلائی جانے والی چھ ماڈلز جن میں کیٹ موس، کلاڈیا شیفر، سنڈی کرافورڈ، ٹرلنگٹن اور ایوینجیلسٹا بھی شامل ہیں ، کے گروپ کا حصہ بن گئیں ۔ نوے کی دہائی کے خاتمے پر سپرماڈلز کے اس گروہ کی ریمپ پر اجارہ داری ختم ہوگئی تاہم پرنٹ میڈیا کیلئے وہ ابھی تک ماڈلنگ کر رہی ہیں ۔ نومی سیاہ فاموں کے حقوق کیلئے بھی سرگرم ہیں اور اسی بنا پر آنجہانی نیلسن منڈیلا انہیں اپنی منہ بولی پوتی بھی قرار دے چکے ہیں ۔ نومی کیمبل متعدد انٹرویو میں اپنے ساتھ برتے جانے والے نسلی تعصب کا ذکر کر چکی ہیں ، ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ سیاہ فام لڑکیوں کو ماڈلنگ کی دنیا میں کامیاب ہونے کیلئے اب بھی سفید فام ماڈلز کے مقابلے کہیں زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔
بارباڈوس سے تعلق رکھنے والی ریہنا بیک وقت گلوکاری، اداکاری اور فیشن ڈیزائننگ کے شعبے میں نام کما رہی ہیں ۔ 20 فروری 1988ئ کو پیدا ہونے والی ریہنا نے 2003 میں اپنا کیریئر شروع کیا اور دو سال بعد ریلیز ہونے والے اپنے پہلے ہی البم ’’ میوزک آف دی سن‘‘ سے شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گئیں ۔ اگلے برس ان کا دوسرا البم ’’ آ گرل لائیک می‘‘ ریلیز ہوا اور وہ بھی میوزک کے ٹاپ ٹین چارٹس کا حصہ رہا۔ ان کے بہت سے گانے مثلاً ’’ امبریلا‘‘،’’ ٹیک آ بو‘‘،’’ اونلی گرل‘‘،’’ ڈائمنڈز‘‘،’’ وی فائونڈ لو‘‘ دنیا کے بیسٹ سیلنگ سنگلز میں شامل رہے ہیں ۔ اب تک ان کے 13گانے بل بورڈ ہاٹ100چارٹ کی زینت بن چکے ہیں اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی کم سن ترین گلوکارہ ہیں ۔ سات گریمی ایوارڈز، آٹھ امریکن میوزک ایوارڈز،22بل بورڈ میوزک ایوارڈز حاصل کرنے والی ریہانہ بھی اپنی سیاہ رنگت کی وجہ سے تعصب کا نشانہ بنتی رہتی ہیں ۔ اس کی ایک مثال 2011 میں گوچی کی ایک سابق ملازمہ کی جانب سے مشہور برانڈ کیخلاف دی گئی درخواست ہے۔ ۔
اس درخواست میں ملازمہ نے اعتراف کیا تھا کہ اسے مالکان نے ریہنا کو محض اس بنا پر تنگ کرنے پر مجبور کیا تھا کہ وہ سیاہ فام ہیں اور ان کے معاوضے میں سے زیادہ سے زیادہ ٹیکس کے مد میں کاٹنے کا حکم دیا تھا۔ اس جیسے دیگر واقعات کے باوجود بھی ریہنا کو شوبز کی دنیا میں کامیابیوں سے کوئی نہیں روک سکا ہے اور فی الوقت یہ اداکارہ نوے ملین ڈالر مالیت کی جائیداد اور دیگر املاک کی مالک ہیں ۔
اپریل2007 کے شمارے میں امریکی جریدے نیوزویک نے دعویٰ کیا تھا کہ ول سمتھ ہالی ووڈ کے بااثرترین اداکار ہیں ۔ اس دعوے کی وجہ ان کی سیاہ رنگت کے باوجود بھی ٹیلی ویژن، فلم اور موسیقی کی دنیا میں حاصل کی گئی لاتعداد کامیابیاں ہیں ۔ اسی کی دہائی میں ’’ دی فریش پرنس‘‘ کے نام سے اپنا کیریئر شروع کرنے والے ول سمتھ ابتدا میں شدید ناکامیوں میں گھرے رہے۔ حتیٰ کہ محکمہ انکم ٹیکس نے ان کا گھر تک ضبط کرلیا۔ اس کے بعد ول نے اپنی نگاہیں ’’ سب سے بڑے مووی سٹار‘‘ کے ہدف پر گاڑ دیں اور سخت محنت شروع کردی اوراس کا پھل انہیں 1996 میں ریلیز ہونے والی ’’ دی انڈیپینڈنس ‘‘ کے ذریعے سے وصول ہوا جب ول سمتھ ہالی وڈ ڈائریکٹرز کی اولین ترجیح بن گئے۔ اپنی کامیابیوں کے بل بوطے پر ول سمتھ چالیس برس سے کم عمر چالیس امیر ترین افراد کی فہرست کا بھی حصہ رہے ہیں ۔ ول سمتھ کی مشہور ترین فلموں میں مین ان بلیک، وائلڈ وائلڈ ویسٹ، ہچ، آئی ایم لیجنڈ، دی پرسوٹ آف ہیپی نیس شامل ہیں ۔
امریکی فلم اور ٹی وی کے اداکار اور پروڈیوسر سیموئیل ایل جیکسن ہالی ووڈ انڈسٹری سے وابستہ ان چند سیاہ فام اداکاروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے عملی زندگی کا آغاز ہی سیاہ فاموں کیلئے جدوجہد سے کیا تھا۔ اس سفر کا آغاز 1968 میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قتل سے ہوا۔ اکیس سالہ سیموئیل نے لوتھرکنگ کی آخری رسومات میں شرکت کی اور اس کے بعد خود کو لاس اینجلس کے ایک سوشل ورکر کی
حیثیت سے رجسٹر کروالیا۔ مساوی حقوق کیلئے جدوجہد کے باعث انہیں کالج سے بھی سزا کے طور پر معطل کیا گیا ۔ اسی دوران وہ سٹیج کے ذریعے بھی سیاہ فاموں تک اپنا پیغام پہنچاتے رہے۔ اسی دوران 1971 میں ٹوگیدر فار ڈیز کے پروڈیوسر نے انہیں دیکھ لیا اور اپنی فلم کیلئے کاسٹ کرلیا۔ یوں سیموئیل کا ہالی ووڈ انڈسٹری کیلئے سفر کا آغاز ہوگیا۔سیموئیل کے کیریئر کو بنانے میں مورگن فری مین کا بہت اہم کردار ہے جنہوں نے بہترین کرداروں کے انتخاب میں ان کی مدد کی۔ ان کی مشہور فلموں میں جیکی برائون، ان بریک ایبل، بلیک سنیک مون، شافٹ، سنیکس آن آ پلین، جنگل فیور اور جینگو ان چینجڈ شامل ہیں ۔
28دسمبر 1954 کو نیویارک میں پیدا ہونے والے ڈینزل واشنگٹن بھی اپنی سیاہ رنگت کے باوجود بھی ہالی وڈ کی دنیا میں کامیابی سے جگہ بنانے والے اداکاروں میں شامل ہیں ۔ ڈینزل کی شہرت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے مشہور شخصیات کی زندگی پر بننے والی فلموں میں ان کے کردار ادا کئے مثلاً میلکم ایکس، روبن ہریکین کارٹر، میلون بی ٹولسن، فرینک لوکاس، سٹیو بائیکو اور ہرمن بون وغیرہ۔ ان فلموں میں اپنے بہترین تاثرات اور باڈی لینگوئیج کی بدولت وہ 2گولڈن گلوب، ایک ٹونی، 2اکیڈمی ایوارڈز جیت چکے ہیں ۔ ڈینزل واشنگن کے والدین میں اس وقت علیحدگی ہوگئی تھی جس وقت وہ چودہ برس کے تھے، اس دور میں وہ اپنا زیادہ تر وقت سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے والے اپنے دوستوں کے ساتھ گزارتے اور یہیں سے انہیں اپنے ہم نسلوں کی مشکلات کا صحیح اندازہ ہوا۔1976 میں انہوں نے تھیٹر میں ’’ ونگز آف دی مارننگ‘‘نامی ڈرامے میں حصہ لیا۔اس ڈرامے میں ان کا حصہ بطور خاص ان کی رنگت کی وجہ سے شامل کیا گیا تھا۔ اسی کی دہائی تک واشنگٹن معروف ترین امریکی اداکاروں کی فہرست میں شامل ہوچکے تھے۔ 1987 میں انہیں کرائی فریڈم میں سٹیون بائیکو کا کردار ادا کرنے پر اکیڈمی ایوارڈکیلئے نامزد کیا گیا۔ یہ واشنگٹن کے
کیریئر کی اس وقت تک کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔ اگلے ہی برس وہ ’’ دی مائیٹی کوئن‘‘ کے ذریعے یہ ایوارڈ اپنے نام بھی کرنے میں کامیاب رہے۔2000میں واشنگٹن گولڈن گلوب ایوارڈ جیتنے میں کامیاب رہے۔ گزشتہ 36برس میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی بھی سیاہ فام اداکار کو یہ ایوارڈ دیا گیا۔ تاحال وہ چھ یا اس سے زائد بار اکیڈمی ایوارڈ کیلئے نامزد کئے جانے والے واحد افریقی النسل ہالی ووڈ اداکار ہیں ۔ اس کے علاوہ اکیڈمی ایوارڈ جیتنے والے اداکاروں میں بھی ان کے علاوہ فقط سڈنی پوائیٹیر شامل ہیں ۔ ڈینزل واشنگٹن کے بقول آج کے ہالی ووڈ میں سیاہ فاموں کی جدوجہد آنے والے دنوں میں ان کیلئے راہیں آسان کردے گی اور یہ ایسا کام ہے جس کیلئے وہ اپنی ساری زندگی بھی خرچ کرنے سے ہرگز نہ ہچکچائیں گے۔
بیونسے نولز کارٹر جو کہ بیونسے نولز کے نام سے شہرت رکھتی ہیں امریکی گلوکارہ و اداکارہ ہیں ۔ وہ 1981 میں امریکی ریاست ٹیکساس میں پیدا ہوئیں ۔ بیونسے بچپن سے ہی موسیقی کی دنیا سے وابستہ ہیں ۔ اس شعبے میں ان کی پہچان اس وقت بنی جب نوے کی دہائی میں ان کے والد کی نگرانی میں کام کرنے والے گروپ آر اینڈ بی کے ہمراہ کیریئر کا آغاز کیا۔ یہ گروپ آل ٹائم بیسٹ سیلنگ گرلز گروپ میں شامل ہے۔ گروپ کے خاتمے کے بعد 2003 میں بیونسے نے بطور سولو آرٹسٹ اپنا پہلا البم ’’ ڈینجرسلی ان لو‘‘ ریلیز کیا۔اس البم نے بیونسے کو سولو آرٹسٹ کے بطور راتوں رات شہرت بخش دی۔ اس البم کی گیارہ ملین کاپیاں ریلیز ہوئیں جب اس کی بدولت بیونسے کو پانچ گریمی ایوارڈز ملے۔ اگلے ہی برس بیونسے کا دوسرا البم ’’برتھ ڈے‘‘ ریلیز ہوا اور ساتھ ہی انہوں نے فلموں میں اداکاری کا آغاز بھی کردیا۔ تاحال اپنے سولہ سالہ کیریئر میں بیونسے17 گریمی ایوارڈز جیت چکی ہیں جبکہ ان کے البمز کی 118ملین کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں ۔ بیونسے کی موسیقی کا موضوع محبت اور عورتوں کی عظمت کے گرد گھومتے ہیں ۔ بیونسے اقتدار کو تبدیلی لانے کے حوالے سے اہم ترین
ذریعہ تصور کرتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے 2008 کے صدارتی انتخابات میں امریکی صدر باراک اوباما کی بھرپور حمایت کی تھی۔ صدارتی مہم کیلئے فنڈ ریزنگ کیلئے انہوں نے خصوصی کنسرٹس میں بھی حصہ لیا اور بعد ازاں باراک اوباما کی کامیابی پر وائٹ ہائوس میں ہونے والے بال اور دیگر تقریبات میں بھی خصوصاً شرکت کی۔ بیونسے کے مطابق سیاہ فام ہونے کی وجہ سے جو مشکلات انہیں درپیش رہیں ، انہیں ان کے عورت ہونے نے اور بھی بڑھا دیا تاہم ان کا ماننا ہے کہ وہ دوسروں سے کسی بھی لحاظ سے کم نہیں ہیں اور اسی بنا پر وہ کسی قسم کے احساس کمتری میں مبتلا نہیں ۔ اس حوالے سے وہ امریکی خاتون اول مشعل اوباما اور اوپرا ونفرے کو اپنا آئیڈیل مانتی ہیں جنہوں نے سیاہ فام عورت ہونے کے باوجود بھی خود کو بین الاقوامی سطح پر بھرپور طور پر منوایا ہے۔ بیونسے کو ان کے دلکش سراپے کی وجہ سے بھی بارہا سراہا جاتا ہے۔2012 میں پیپلز میگزین نے انہیں دنیا کی خوبصورت ترین خاتون قرار دیا تھا جبکہ کمپلیکس نے انہیں پرکشش ترین گلوکارہ کا خطاب دیا تھا۔ گزشتہ برس جی کیو نے اکیسویں صدی کی 100خوبصورت ترین خواتین کی فہرست شائع کی تھی اور اس میں بیونسے کا نام سرفہرست رکھا گیا تھا۔ بے پناہ شہرت کے باعث دولت بھی ان کے گھر کی باندی بنی ہوئی ہے۔ گزشتہ ماہ ایم ٹی وی کی مرتب کردہ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ بیونسے نولز اس وقت امیر ترین سیاہ فام فنکارہ ہیں ۔
ہالی ووڈ کے سیاہ فام اداکاروں میں ایڈی مرفی کا نام بھی بہت اہم ہے۔ ایڈی مرفی گزشتہ 3 دہائیوں سے کامیڈی فلموں میں اہم کردار نبھا رہے ہیں ، انہیں ہالی ووڈ کا سب سے مقبول کامیڈین بھی کہا جاتا ہے۔ اداکارائوں میں ہالے بیری بھی شامل ہیں جنہوں نے سیاہ فام ہونے کے باوجود کامیابیاں حاصل کیں اور نسلی تعصب کا حوصلے سے مقابلہ کیا۔ امریکہ اور یورپ میں سیاہ فام فنکاروں کے حوالے سے تعصب میں اگرچہ بہت حد تک کمی ہو گئی ہے لیکن امریکہ اور یورپ کے بہت
سے فنکار اب بھی اپنی رنگت کی وجہ سے کسی نہ کسے حوالے سے احساس محرومی کا شکار ہیں اور ایسے فنکاروں کی اکثریت سیاہ فام افراد کی فلاح اور نسلی تعصب کے خاتمے کیلئے سرگرم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…