’’رچرڈ نکسن ایک مرتبہ چینی صدر چواین لائی سے ملے اور انہیں ایک تصویر دی جس میں چواین لائی اپنے گھر کے لان میں بیٹھ کر اخبار پڑھ رہے تھے اور اخبار کی سرخیاں بھی واضح نظر آرہی تھیں‘چواین لائی نے پوچھا آپ نے یہ تصویر کیسے کھینچی‘ رچرڈ نکسن نے فخریہ انداز میں کہا کہ ہمارے پاس ہنڈرڈ بلین ڈالر کی سٹیلائٹ ٹیکنالوجی ہے جو صرف ہمارے پاس ہے‘ یہ تصویر ہم نے اسی سے کھینچی ہے۔ چواین لائی مسکراکر اٹھے‘ اپنی میز پر گئے اور ایک تصویر اٹھائی اور صدر نکسن کو پیش کردی۔ اس تصویر میں صدر نکسن وائٹ ہاؤس میں بیٹھ کر سی آئی اے کی کانفیڈنشل فائل پڑھ رہے تھے۔ یہ تصویر دیکھ کر نکسن کا رنگ فق ہوگیا اور اس نے پوچھا کہ آپ نے یہ تصویر کیسے کھینچی تو چواین لائی نے جواب دیا کہ آپ جو کام ہنڈرڈ بلین ڈالر کی ٹیکنالوجی سے کررہے ہیں ہم نے ہنڈرڈ ڈالر کی ٹیکنالوجی سے کردیا۔ صدر نکسن نے وضاحت مانگی تو چواین لائی نے کہا کہ ہم نے وائٹ ہاؤس کے ایک ملازم کو ہنڈرڈ ڈالر دے کر یہ تصویر حاصل کی ہے‘‘
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دو سال بعد‘عوامی جمہوریہ چین 1949 ء میں آزاد ہوا۔ اس وقت چین عالمی معیشت پر تیزی سے چھا یا ہوا ہے۔ عالمی کساد بازاری میں ہر ملک بحران کا شکار ہے لیکن چین اور برازیل واحد ممالک ہیں جن کی ترقی پر عالمی کساد بازاری کا فرق نہیں پڑا۔ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس میں چین کی مصنوعات استعمال نہ ہورہی ہوں۔ چین نے کیسے ترقی کی اس کے بارے میں چند حقائق پیش ہیں۔
1۔ ماؤزے تنگ جدید چین کا بانی شمار کیا جاتا ہے۔ چین کو ترقی دینے میں اس کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ چین کے لوگ افیون اور ہیروئین کے نشہ کی لت میں مبتلا تھے لیکن ماؤزے تنگ نے اپنی قوم سے یہ لت چھڑوا کر اسے دنیا کی ایک محنتی قوم بنادیا۔



















































