جنات اور جادو کی حدود کیا ہیں؟
شیطان یا جنات محض دل میں خیال ڈالنے اور دھوکا دینے کی حد تک ہی زندگی میں دخل دے سکتاہے۔ خیال میں‘ سوتے میں یا جاگتے میں‘ خاص انداز میں نظر آنا ٗ اس کی آواز سنائی دینا یعنی برائی کی طرف مائل ہونا وغیرہ ‘دخل دینے ہی کی اقسام ہیں ۔ شیطان کا زور اس حد تک ہی ہے۔
جنات میں انسانوں سے کہیں زیادہ طاقت تو ہے مگر انسان کو اللہ کا ساتھ اور علم کی طاقت دے کر جنات کو کھلا نہیں چھوڑ دیاگیا کہ وہ جو چاہیں جس طرح چاہیں کرتے پھریں‘ اگر ایسا ہوتا تو کائنات کا نظام درہم برہم ہو چکا ہوتا۔ جنات لپٹ اور چمٹ کر ہم سب انسانوں کو کب کا حواس باختہ اور بیمار بنا چکے ہوتے اور ہم انسان صفحہ ہستی سے ہی مٹ گئے ہوتے۔
اس طرح اگر جادو میں اس قدر طاقت ہے تو فرعون کے درباری جادو گر اسے اپنے جنات کی مدد سے گرا کر اس کے مال و متاع پر خود ہی قبضہ کر چکے ہوتے اور اس طرح انعام و اکرام کے لئے درخواست کرتے اور بھیک نہ مانگتے پھرتے ۔ سورہ الاعراف کی آیات113اور 114 کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں ’’اور جادو گر فرعون کے پاس آ پہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں انعام عطا کیا جائے۔ فرعون نے کہا کہ ہاں ضرور اور میں تمہیں اپنے خاص بندوں میں شامل کر لوں گا‘‘۔
آخر فرعون کے دور کے جادوگروں کو یا ان کے قابو میں آئے جنات کو کس چیز نے فرعون کے مال و دولت پر قبضہ کرنے سے روک رکھا تھا؟ جادو گر فرعون سے انعام کی درخواست کیوں کررہے تھے؟ اگر جادو اور جنات زور آور ہیں تو اسرائیل ٗ بھارت ٗ افریقہ اور بنگال کے ماہر جادو گر متحد ہو کر اپنے جادو کے ذریعے دنیا کے مال و دولت پر قبضہ کیوں نہیں کر لیتے۔ جنات کے ذریعے یہ سب کچھ کر لینے میں آخر کس نے روک رکھاہے ؟
حقیقت کیاہے؟ جو لوگ سختی سے حقوق اللہ اورحقوق العباد کا خیال رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے آگے شیطان کو بے بس کر دیتاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے میں سختی سے کاربند رہتے تھے۔ اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ جنات کو حقوق اللہ اور حقوق العباد پر سختی سے عمل کر کے ان کی حد میں رکھا جا سکتاہے یا عرف عام میں انہیں قابو کیا جاسکتا ہے۔ رہی یہ بات کہ جنات انسانوں سے لپٹ کر انہیں دیوانہ بنا سکتے ہیں ٗ قابل تسلیم نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید سے صرف یہی ثابت ہوتاہے کہ شیطان صرف خیال ڈالنے یا شک ڈالنے کی حد تک ہی انسان کے ذہن میں مداخلت کرسکتاہے۔



















































