حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کے واقعے پر غور کرنے سے اس حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے کہ جادو کاہو جانا اور جادو کے برے نتائج ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو تو ہوا لیکن نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے حقوق اللہ اور نہ ہی حقوق العباد میں کمی واقع ہوئی۔ جادو کی قسم کوئی بھی ہو شیطان کا اصل ہدف ہمیں حقوق اللہ اورحقوق العباد سے غافل کرنا ہے۔ ملاحظہ ہوں سورہ الاعراف کی آیات 10تا18 ۔ ’’اور ہم ہی نے تم کو ابتداء میں مٹی سے پیدا کیا۔ پھر تمہاری صورت شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا لیکن ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا‘‘ اللہ نے فرمایا کہ جب میں نے تجھے حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا۔ اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیاہے اور اسے مٹی سے بنایاہے۔ فرمایا تو بہشت سے اتر جا۔تجھے شایاں نہیں کہ یہاں غرور کرے لہٰذا تو یہاں سے نکل جا۔ اس نے کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت عطا فرما جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔ فرمایا ٹھیک ہے ٗ تجھے مہلت دی جاتی ہے ۔ پھر شیطان نے کہا کہ مجھے تو تو نے ملعون کیا ہی ہے میں بھی تیرے سیدھے رستے پر ان (انسانوں) کو گمراہ کرنے کے لئے بیٹھوں گا پھر ان کے آگے سے اور پیچھے سے ٗ دائیں سے اور بائیں سے آؤں گا اور تو ان میں سے اکثر کوشکرگزار نہیں پائے گا۔ اللہ نے فرمایا یہاں سے نکل جا مردود ۔ جو لوگ ان میں سے تیری پیروی کریں گے‘ میں (ان کو اورتم سب کو) جہنم میں بھر دوں گا۔ جواہم بات ان آیات مبارکہ سے واضح ہو رہی کہ شیطان انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان سیدھے رستے پر بیٹھتا ہے۔ اسلام کی عمومی تعلیمات کے تحت ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی سیدھی راہ دوقسم کے حقوق پر مشتمل ہے جنہیں ہم حقوق اللہ اورحقوق العباد کے نام سے جانتے ہیں۔
کیا انسان جنات کے آگے بے بس ہے؟



















































