افغانستان کے شہر ہرات کے مضافات میں ایک گول عمارت ہے جس پر سفید اور نیلی ٹائلیں لگی ہوئی ہیں۔ان پر 1979 کی افغانستان پر سویت جارحیت کے بعد دس سال تک جاری رہنے والی جنگ میں ہلاک ہونے والے مرد اور عورتوں کے نام درج ہیں۔

اس عمارت کے گرد ایک باغ ہے جس میں افغان مجاہدین کے ہاتھوں پکڑے جانے والے سویت اسلحے اور ہتھیاروں کی نمائش کی گئی ہے جن میں سویت جنگی ہیلی کاپٹر، ایک مگ فائٹر جیٹ اور ایک ٹینک بھی شامل ہے۔ان وقتوں میں جہاد کو صرف غیر ملکی قبضے کے خلاف مزاحمت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ مجاہدین کو اچھا سمجھا جاتا تھا اور پاکستان کے ذریعے امریکہ اور سعودی عرب انھیں اسلحہ فراہم کرتے تھے۔ وہ جنگ 10 سال جاری رہی۔ سویت یونین کو 1989 میں افغان مزاحمت سے مجبور ہو کر واپس جانا پڑا۔ لیکن اپنے پیچھے بھی وہ ایک تباہ شدہ ملک چھوڑ گئے۔ دس سال کی جنگ میں تقریباً دس لاکھ افغان شہری اور 15,000سویت فوجی مارے گئے۔



















































