ہر معاشرے کے آداب اور قوانین ہوتے ہیں جن کا احترام ہرشہری پر فرض ہے مگر بعض ممالک میں چند ایسے قوانین بھی نافذ ہیں جن کے بارے میں سنتے ہی ہرکوئی مسکرا دیتا ہے ۔آئیے آپ کو دس ایسے ہی احمقانہ قوانین کے بارے میں بتاتے ہیں۔
1: خبردار! کبوتروں کو دانہ مت ڈالیے!
وینس تہذیبی و ثقافتی لحاظ سے اٹلی کا دل سمجھا جاتا ہے لیکن وینس جانے والے سیاح ہوشیار رہیں‘ وہاں کبوتروں کو دانہ ڈالنا غیر قانونی ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ دانہ ڈالنے سے کبوتروں کی آبادی بڑھتی ہے اور وہ شہرمیں مختلف بیماریاں پھیلاتے ہیں۔ مشہور امریکی شہر سان فرانسسکو میں بھی کبوتروں کو دانہ ڈالنا ممنوع ہے۔ وجہ یہی ہے کہ ان پرندوں کی زیادہ آبادی امراض پھیلانے کا باعث بنتی ہے۔ ان ممالک میں کبوتروں کو دانہ ڈالنے والوں کی خبر پولیس کو پہنچانے والے شہریوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔
2: چیونگم نہ کھاؤ ورنہ!
مزید پڑھیے:دنیا کا سب سے خطرناک جانور
دنیا کی اکلوتی خودمختار شہری ریاست میں حکومت صفائی ستھرائی پر خاص توجہ دیتی ہے۔سنگاپور میں اس ضمن میں اتنی سختی ہے کہ شہری سڑکوں‘ اسٹیشنوں‘ریلوں اور دیگر عوامی مقامات پر چیونگم نہیں کھا سکتے۔ اگر کوئی من چلا سڑک پر جگالی کرتا پکڑا جائے تو اس پر بھاری جرمانہ عائد ہوتا ہے۔ سنگاپور میں سگریٹ نوشی کا قانون بھی بڑا سخت ہے‘ شہری صرف گھروں یا مخصوص عوامی جگہوں پر ہی سگریٹ پی سکتے ہیں ورنہ آپ نے ریستوران‘ سڑک یا پارک میں سگریٹ جیسے ہی سلگایا پولیس آپ کو دبوچ لے گی لہٰذا وہاں چیونگم کھانے اور سگریٹ پیتے ہوئے احتیاط کیجیے۔
3:کپڑے لٹکانے ہیں تو لائسنس لیں!
نیویارک دنیا کے چند گنے چنے نفیس اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے جدید شہروں میں شامل ہے۔ شاید آپ کا خیال ہو کہ اس امریکی شہر میں الٹے قوانین نہیں ملیں گے مگر یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ اگر آپ نیویارک کے باسی ہیں تو آپ کو بالکونی یا صحن میں تاروں پر کپڑے لٹکانے کے لیے لائسنس لینا ہو گا۔ کپڑے بغیر لائسنس لٹکائے جائیں تو مقامی حکومت جرمانہ لگانے میں دیر نہیں لگاتی۔ ایک اور عجیب قانون یہ ہے کہ شہر میں کوئی شہری مذاق مذاق میں گیند اپنے ساتھی کے سر پہ نہیں مار سکتا ورنہ اس اقدام پر بھی جرمانہ بھگتنا پڑتا ہے۔
4: پٹرول نہ ختم ہونے پائے!
گاڑی باقاعدگی سے چلانے والے جانتے ہیں کہ بعض اوقات سنسان اور ویران جگہوں پر اچانک پٹرول ختم ہو جاتا ہے تب کسی سے لفٹ لے کر یا پیدل ہی چل کر پٹرول پمپ پہنچنا پڑتا ہے لیکن جرمن شاہراہوں(آٹوبان) پر پٹرول ختم ہونا جرمانے کو دعوت دینا ہے۔ جرمن شاہراہیں بہت طویل ہیں اور ان پر سوائے ایمرجنسی کے کسی کو رکنے کی اجازت نہیں۔ یوں ڈرائیوروں کو موقع ملتا ہے کہ پوری رفتار سے گاڑیاں چلا سکیں۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ اچانک پٹرول ختم ہونا ایمرجنسی ہی تو ہے مگر جرمن قانون اسے ایمرجنسی نہیں ڈرائیور کی غلطی سمجھتا ہے کہ اس نے سفر شروع کرنے سے قبل پٹرول کی ٹینکی پر نظر کیوں نہ ڈالی؟
5: چوک میں بیٹھنا منع ہے!
سینٹ مارک اسکوائر وینس کا مشہور چوک ہے‘ وہاں کئی سڑکیں آن ملتی ہیں۔ سینکڑوں سیاح اسکوائرمیں ڈیرہ جمانے لگے‘ وہ پستے یا میوے کھاتے اردگرد کے مناظر سے لطف اندوز ہوتے لیکن جب اسکوائر میں سیاحوں کی کثرت ہو گئی تو وہاں ٹریفک جام ہونے لگا۔ اس مسئلے کا حل یہ نکالا گیا کہ چوک میں سیاحوں کی ’’پکنک‘‘ پر پابندی لگا دی گئی۔ اب اگر وہاں کوئی بیٹھے تو بلدیہ کے ملازم نرمی سے اسے بتاتے ہیں ’’یہاں بیٹھنا منع ہے۔‘‘ اگر کوئی تب بھی نہ مانے تو پھر چلو تھانے!
6: ہوائی اڈے کی تصویر مت اتاریں!
قازقستان وسطی ایشیا کا ایک بڑا ملک ہے جہاں قازق مسلمانوں کے علاوہ روسی بھی بڑی تعداد میں بستے ہیں۔ اس ملک میں ہوائی اڈوں پر تصویر کھینچنا جرم ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر پولیس ملزم کو گرفتار بھی کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سبھی ممالک کے طرح فوجی اور سرکاری تنصیبات کی تصاویر کھینچنے پر بھی ممانعت ہے۔
7: نشہ آور بوٹی مت اگائیں!
دنیا کے کئی علاقوں میں میری جوانا (Marijuana) اگائی جاتی ہے‘ یہ ایک نشہ آور بوٹی ہے جو انگریزی میں کنابیس (Cannabis) بھی کہلاتی ہے۔ اردو میں اس کے کئی نام ہیں مثلاً بھنگ‘ گانجا‘ حشیش وغیرہ۔ کئی سیاح اور عام لوگ نہیں جانتے کہ جمیکا میں قانونی طور پر میری جوانا کی بوٹی اْگانا جرم ہے۔ اگر کوئی اس کی کاشت کرتا پکڑا جائے تو اس کو کم ازکم دس سال تک جیل کی ہوا کھانا پڑتی ہے لہٰذا اگر آپ ویسٹ انڈیز کے اہم جزیرے جمیکا کی سیاحت پر جائیں تو میری جوانا سے دور رہیں۔
8۔ بریتھ لائزر رکھنا مت بھولیے!
مغربی ممالک میں شراب کا چلن عام ہے لیکن وہاں بھی جو ڈرائیور یہ مشروب پینے لگے اسے ناپسندیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔ فرانس میں تو یہ قانون ہے کہ ہر ڈرائیور کے پاس دستی بریتھ لائزر ہونا چاہیے‘یہ آلہ انسانی خون میں الکوحل کی مقدار ناپتا ہے جو ڈرائیور اس دستی (پورٹیبل) آلے کے بغیر پایا جائے اسے 11یورو جرمانہ ہو سکتا ہے۔ فرانس آنے والے سیاح بھی اس قانون سے مستثنیٰ نہیں۔
9۔ مہذب روّیہ اپنائیں!
مغربی تہذیب و ثقافت کے پروردہ مرد و زن عوامی مقامات پر بھی بے حیائی کا مظاہرہ کرتے نہیں جھجکتے ‘تاہم مغربیوں کو متحدہ عرب امارات میں احتیاط برتنا پڑتی ہے‘ وہاں مرد و زن کا ہاتھ تھام کر چلنا بھی جرم ہے۔ کچھ اور گھٹیا قدم اٹھانا تو دور کی بات ہے جو کوئی امارات میں نازیبا حرکت کرے‘ قید خانہ ہی اس کا ٹھکانا بنتا ہے۔ بعض مغربی ممالک میں بھی بے حیائی کے مظاہروں پر پابندی ہے مثلاً یونان میں کسی عوامی مقام پر اپنی پتلون اتارنا جرم ہے‘ خلاف ورزی پر آپ پربھاری جرمانہ لگ جائے گا۔ اسی طرح ہسپانوی دارالحکومت بارسلونا میں مرد و زن صرف ساحل سمندر پر ہی لباس تیراکی پہن سکتے ہیں۔
10:ریزگاری اپنے پاس ہی رکھیں!
جب بہت سے سکے جمع ہو جائیں تو ان سے جان چھڑوانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انہیں کسی دکان دار کے حوالے کر دیا جائے مگر کینیڈا میں ایسی حرکت نہ کیجیے گا ورنہ آپ کو خفت اٹھانا پڑے گی۔ دراصل کینیڈا کے کرنسی ایکٹ کی رو سے دکانداروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ ریزگاری لینے سے انکار کر دیں مثلاً اگر آپ ایک سینٹ کے پندرہ بیس سکے دیں تو وہ انھیں قانوناً لینے سے انکار کر سکتے ہیں۔



















































