2005 میں انہوں نے دوبارہ ایک اور بندر گود لیا اور اس کا نام چُن مُن رکھا۔ دونوں ہی اسے اپنی اولاد کی طرح پالنے لگے اور بندر سے اُن کی محبت بڑھنے لگی۔ سبیتا اور برجیش نے 2010 میں چُن مُن کی شادی بھی کی اور یہ شادی انسانوں کی طرح دھوم دھام سے بیانڈ باجا ‘ بارات کے ساتھ کی گئی۔ یہ بندر جس گھر میں رہتا ہے وہاں اس کیلئے ایر کنڈیشنڈ کمرہ ہے جہاں وہ اپنی بیوی بٹی کے ساتھ شاہانہ زندگی گذار رہا ہے۔ سبیتا اور برجیش اس بندر کی ہر سال شادی کی سالگرہ بھی مناتے ہیں۔ خصوصی مہمانوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ سبیتا کاکہنا ہے کہ بندر اور اس کی بیوی کو چائنیز کھانے ‘چائے اور آم کا جوس پسند ہے۔
مزید پڑھئے:زیادہ چھٹیاں اور کم کام، دنیا کے امیر ترین شخص کی
دراصل اس جوڑے کا ماننا ہے کہ جب سے یہ بندر ان کی زندگی میں آیا تب سے اُن کی دولت میں اضافہ ہوا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے چُن مُن کو اپنا بیٹا بتاتے ہوئے ساری دولت اس کے نام کردی۔ انہوں نے بندروں کی دیکھ بھال کیلئے ایک ٹرسٹ بھی قائم کیا۔ چُن مُن نامی اس بندر کی عمر اس وقت 10 سال ہے ۔ عام طور پر بندر 35 سے 40 سال تک زندہ رہتے ہیں۔ جوڑے نے وصیت کی ہے کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی ساری دولت کو بندروں کی دیکھ بھال پر خرچ کیا جائے۔



















































