ڈاکٹر ایلن کینی نیوزی لینڈ کے دوردراز قصبے ٹوکورا کا رہائشی ہے۔ اکسٹھ سالہ ڈاکٹر قصبے کا واحد کلینک چلاتا ہے۔ اسے اپنی معاونت کے لیے ایک نوجوان ڈاکٹر یا جنرل پریکٹیشنرکی ضرورت ہے مگر ملک بھر سے کوئی بھی ڈاکٹر اس کا ہاتھ بٹانے کے لیے تیار نہیں۔ پاکستان میں نوجوان ڈاکٹروں کو بڑ ے بڑے اسپتال اور کلینک برائے نام تنخواہ دیتے ہیں مگر ڈاکٹر ایلن چار لاکھ ڈالر سالانہ دینے کے لیے تیار ہے( پاکستانی روپوں میں یہ رقم چار کروڑ سے زائد بنتی ہے )۔ اس تنخواہ کے لیے بہت سے لوگ کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجائیں گے مگر ڈاکٹر ایلن کی پیش کش میں کسی نوجوان نے دل چسپی ظاہر نہیں کی۔ عمررسیدہ ڈاکٹر نے جنرل پریکٹیشنر کی اسامی کے لیے اشتہار چار ماہ پہلے دیا تھا۔ انتہائی پُرکشش تنخواہ کی پیش کش کے باوجود ابھی تک اسے ایک درخواست بھی موصول نہیں ہوئی! ٹوکورا کی آبادی دس ہزار سے زائد ہے۔ ماہانہ اوسطاً ایک ہزار سے زائد افراد علاج معالجے کے لیے ڈاکٹر ایلن سے رجوع کرتے ہیں، کیوں کہ وہ قصبے کا واحد ڈاکٹر بھی ہے۔ رائل کالج آف جنرل پریکٹیشنرز تجویز کرتا ہے کہ ڈاکٹر ایک روز میں پچیس سے زائد مریض نہ دیکھیں مگر ڈاکٹر ایلن مریضوں کی زائد تعداد اور قصبے کا واحد ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے روزانہ چالیس سے زائد مریضوں کا معائنہ اور علاج کرنے پر ’ مجبور‘ ہے۔ وہ صبح ساڑھے آٹھ بجے سے شام چھے بجے تک مسلسل کلینک میں مصروف رہتا ہے۔ یہاں تک کہ کھانے کے لیے بھی وقفہ نہیں لیتا۔ ڈاکٹر ایلن کا کہنا ہے عمر بڑھنے کی وجہ سے اب جسم میں پہلے جیسی توانائی نہیں رہی اور نہ ہی زیادہ عرصے تک اس کے لیے کلینک کو تن تنہا چلانا ممکن ہوگا، مگر کئی ماہ کی کوشش کے باوجود وہ اپنا کوئی معاون یا متبادل تلاش نہیں کرسکا۔ وجہ یہ ہے کہ ٹوکورا دوردراز قصبہ ہے جہاں کوئی ڈاکٹر آنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، کیوں کہ آکلینڈ جیسے بڑے شہروں کے مقابلے میں ایک چھوٹے سے قصبے میں ڈاکٹر کی ملازمت نوجوان ڈاکٹروں کے لیے کوئی کشش نہیں رکھتی، باوجود یہ کہ وہ یہاں رہ کر شہر کی نسبت دُگنی تنخواہ پاسکتے ہیں۔ ڈاکٹر کینی کے مستقل مریضوں کی تعداد چھے ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ اس کا ’ کاروبار‘ تیزی سے پھیل رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے ایک ساتھی کی ضرورت محسوس ہورہی ہے جسے وہ دُگنا معاوضہ دینے کے لیے تیار ہے مگر قصبے کے محل وقوع کی وجہ سے کوئی ڈاکٹر یہاں پریکٹس کرنے پر راضی نہیں ہوتا۔ آکلینڈ میں، جو ٹوکورا سے نزدیک ترین شہر ہے، بہترین میڈیکل کالج موجود ہیں مگر، ڈاکٹر ایلن کے مطابق، ان میں زیادہ تر مالداروں کے بچے تعلیم پاتے ہیں جو ڈاکٹر بننے کے بعد شہر کی سہولتیں چھوڑ کر دیہی علاقوں میں جانا پسند نہیں کرتے۔ ڈاکٹر ایلن کا کہنا ہے اگر ان کالجوں میں دیہاتی بچوں کو بھی داخلہ دیا جائے تو پھر، ممکنہ طور پر ٹوکورا جیسے قصبوں کو ڈاکٹروں کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
تنخواہ چار لاکھ ڈالر سالانہ لیکن کوئی نوکری کرنے کو تیار نہیں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































