ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

40 سال کی عمر میں پیش آنے والے مسائل اور ان کا حل

datetime 21  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)انسان کی زندگی کئی ادوار سے گزرتی ہے اور ہر دور کی اپنی خصوصیات اور اپنے مسائل ہوتے ہیں ۔ نوجوانی میں انسان کے پاس کئی مقاصداور گولز ہوتے ہیں ۔ وہ کچھ بننا چاہتا ہے ۔ کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے جس کے لیے وہ دن رات محنت بھی کرتا ہے ۔ پھر ایک دور ایسا آتا ہے جب اسے وہ مقام حاصل ہوجاتا ہے جس کی اسے خواہش تھی یا جس کے لیے اس نے کوششیں کی تھی۔ ان سب مراحل سے گزرنے کے بعد زندگی میں ایک ایسا دور بھی آتا ہے جب اس کی شخصیت میں یکسر تبدیلیاں واقع ہونے لگتی ہیں۔ اس کی ذہنی و جسمانی کارکردگی اور اس کی روز مرہ کی ذمہ داریوں میں تضادآنے لگ جاتاہے ۔ عام طور پر چالیس سال کی عمر سے انسان کی صحت ، سوچ اور زندگی کے حالات میں بڑی تبدیلیاں رونماہونا شروع ہوجاتی ہیں ۔ خاص طور سے خواتین کے لیے زندگی کا یہ موڑ ان کی ذاتی زندگی اور صحت کے حوالے سے کئی الجھنیں پیدا کردیتا ہے ۔ زندگی کی ان تبدیلیوں کو سمجھنا بے حد ضروری ہے تاکہ اس کے مطابق اپنے اصول اور شخصیت میں بھی تبدیلی لائی جاسکے ۔ اگر ہم تھوڑی غور و فکر اور سمجھ داری سے کام لیں تو ہم اس وقت کو پنی زندگی کا سب سے حسین دور بنا سکتے ہیں ۔ امریکہ میں خواتین کے لیے قائم ایک تھیرپی سینٹر کی ڈائریکٹر ایلیا موزر کا کہنا ہے کہ انسان 20 اور 30سال کی عمر میں کڑی محنت کرتا ہے جس کے باعث 40سال کی عمر تک پہنچنے پر اسے لگنے لگتا ہے کہ بس اب بہت ہوگیا۔ اب اسے اپنے آپ کو توجہ دینے کیضرورت ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس عمر کو پہنچ کر وہ اکثر اضطرابی کیفیت اور ڈپریشن کاشکار ہونے لگتا ہے ۔ عموماً پیش آنے والے مسائل اس حوالے سے سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کون سے مسائل ہیں جن کی وجہ سے عام طور پر اس عمر میں انسان ذہنی دباؤ کا شکار ہونے لگتا ہے: *کسی اپنے کی موت *بچوں سے ان بن یا بے اتفاقی *نوکری چھوٹ جانا یا ریٹائرمنٹ کا ڈر *جسمانی اور ذہنی صحت کا کمزور ہونا *کسی دلی خواہش یا مقصد کا پورا نہ ہونا خواتین کی صحت پر اثرات جب خواتین چالیس سال کی عمر کو پہنچتی ہیں تو ان میں کئی جسمانی تبدیلیاں آتی ہیں جیسے مینو پازmenopauseیعنی ماہواری رکنے کا عمل اور اس کے علاوہ آج کل کے دور میں اس عمر کو پہنچنے پر عاموماًکئی بیماریوں کا بھی سامنا کرنا پڑجاتا ہے جیسے، ذیابظیس، بلڈ پریشریا ہڈیوں کا کمزور ہوجانا ۔ تحقیق کے مطابق ان مسائل کے باعث اکثر خواتین کی خوراک بھی متاثر ہوجاتی ہے۔ انہیں وقت پہ بھوک نہیں لگتی اور ان کا معدہ کمزور ہونے لگتا ہے ۔ 12171266_1157649287584174_1756114779_o مسائل کے آسان حل بیماریوں سے ڈرنا چھوڑیں اپنی جسمانی تبدیلیوں کو تسلیم کریں ۔ ممکن ہے کہ اب آپ پہلے سے زیادہجلدی تھکجائیں اور پہلے سے جلدی بیمارہونے لگیں ۔ لیکن ہر چھوٹی سے چھوٹی تکلیف کے لیے پریشان ہوجانا یا ڈاکٹر کے پاس بھاگنا محض آپ کو مزید پریشانی میں ڈال دے گا۔ کوشش کریں کہ خود ہی اپنی طبیعت کو سنبھالنے کی کوشش کریں ؛ کھلی ہوا میں نکلیں، ماحول تبدیل کریں ، کسی دوست سے بات کریں تاکہ آپ کا دھیان بٹے۔ البتہ پھر بھی طبیعت نہ سنبھلے تو معالج سے رجوع کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ 12167961_1157649577584145_1363089161_n میاں بیوی کا رشتہ دوستی کا زندگی جس طرح آگے بڑھتی جاتی ہے ۔ میاں بیوی، بچوں اور گھر کی ذمہ داریوں میں کھو کر ایک دوسرے کو وقت دینا بھول جاتے ہیں ۔ اس عمر کو پہنچ کر آپ کو اس رشتے کو پھر سے مضبوط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور ایک د وسرے کوسمجھنے کی کوشش کریں کیوں کہ آپ دونوں اس وقت ایک جیسی کیفیات اور زندگی کے ایک جیسے دورسے گزر رہے ہیں ۔ 12171429_1157649064250863_1279482293_o سماجی فلاح کے کاموں میں شرکت دوسروں کا درد کم کرنے سے اپنا درد کم ہو جاتا ہے ۔ کوشش کریں کہ کسی ایسی مہم یا ایسے کام کا حصہ بنیں جو لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہو۔ اس سے نہ صرف آپ کو ذہنی سکون ملے گا بلکہ آپ معاشرے میں ایک اہم کردار بھی اداکر پائیں گے ۔ بچوں پر غصہ مت اتاریں عمر کے اس دور میں عام طور پر لوگوں کی اپنے بچوں سے ان بن ہونے لگتی ہے ۔ یہاں ماں باپ اور اولاد دونوں کو ہی ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ آپ کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے بارے میں ضرورت سے زیادہ فکر کرنے اور انہیں ڈانٹنے کے بجائے انہیں خود کو سمجھنے اور اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ لینے کا موقع دیں۔ Untitled-1 موبائل فون کو آرام دیں کم از کم چھٹی والے دن کوشش کریں کہ آفس اور اس کی پریشانیوں سے دور رہیں۔ کام کادباؤ کم کرنے کے لیے گھر والوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں۔ اپنے دوستوں کو کال کریں اور ہو سکے تو ان کے ساتھ کسی سیر یا پکنک کا پروگرام بنائیں ۔ صحت مند غذااور ورزش ہلکی پھلکی ورزش کو اپنا معمول بنالیں ۔ صبح سویرے چہل قدمی سے بھی اعصابی سکون ملتا ہے اور پورا دن اچھا گزرتا ہے ۔ چٹ پٹے اور بادی کھانوں کی جگہ صحت مند غذا لیں ۔ا پنی خوراک میں سبزیوں ، پھل اور پانی کا استعمال بڑھادیں ۔ اپنوں کی مدد لیں اپنی پریشانیوں کے بارے میں بات کرنا نہ صرف ذہنی سکون دیتاہے بلکہ اکثر اس سے مسائل کا حل بھی نکل آتا ہے ۔ اپنے کسی قریبی سے بیٹھ کہ کھل کر بات کریں ۔ ضرورت پڑنے پر آپ کسی تھیراپسٹ کی مدد بھی لے سکتے ہیں جو نہ صرف آپ کو سنے گا بلکہ آپ کی تکالیف کو حل کرنے کے طریقے بھی بتائے گا ۔ زندگی کے ہر مرحلے میں ہی انسان کو اپنے مسائل اور کیفیات کے بارے میں بات کرنے کی ، انہیں سمجھنے اور تسلیم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایسے موقع پر اگر آپ کے اپنوں کا تعاون مل جائے تو زندگی کا ہر دور خوبصورت اور پر سکون بنایا جا سکتا ہے ۔ بس اپنے سوچنے کا طریقہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے!

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…