بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین میں پچاس سال پہلے تہذیبی انقلاب کی دہائی میں چینی قوم ایک خاص قسم کی دیوانگی کا شکار ہو گئی، یہ دیوانگی آم کا جنون تھی ، یہ وہ وقت تھا جب پاکستانی آم چین میں مقدس حیثیت اختیار کر گئے ۔ 1966 میں ماؤ زے تنگ نے انقلابی کارکنوں کو پاکستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے آم موصول ہوئے ، اس وقت شمالی چین میں لوگ آموں کے بارے میں نہیں جانتے تھے، ان آموں کا چینی قوم پر بڑا گہرا اثر ہوا اور انہوں نے ماؤ کے تحفے کو محفوظ بنانے کے لیے ایک ہسپتال تلاش کیا جہاں آم کو فارمل ڈیہائڈ گیس میں رکھ دیا گیا اور ان آموں کی مومی شکل تیار کر کے کانچ کے خول میں رکھ کر ہر انقلابی کارکن کو تحفہ دیا گیا ۔ کارکنوں کے لیے لازمی تھا کہ وہ اس مقدس پھل کو احترام سے تھامیں ، ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کی سرزنش بھی کی جاتی تھی ۔ پاکستانی آم
کی اہمیت کا یہ عالم تھا کہ صرف ایک آم کو شنگھائی کی فیکٹری تک پہنچانے کے لیے پورے جہاز کا انتظام کیا گیا اور آموں کو لے کر ملک کے طول وعرض میں مقدس جلوس نکالے گئے اور آج تک میوزیم میں ان آموں کو محفوظ رکھا گیا ہے ۔



















































