ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

شہزادی ڈیانا کے ہاتھوں زندگی پانے والا نوجوان آج دربدر

datetime 26  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)آنجہانی شہزادی ڈیانا نے تقریبا 20 سال پہلے افریقی ملک کیمرون سے تعلق رکھنے والے ایک سات سالہ بچے کی زندگی بچائی تھی جو دل کے عارضے میں مبتلا تھا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 1996ء میں آرنود وابمو نامی اس نوجوان کی عمر صرف سات سال تھی۔ یہ نوجوان دل کے عارضے میں مبتلا تھا اور اس کے دل میں سوراخ تھا۔ اپنے اس عارضے کی وجہ سے وہ چل بھی نہیں سکتا تھا۔ برطانوی شہزادی ڈیانا کو جب آرنود وابمو کی اس حالت کا پتا چلا تو اسے خصوصی طور پر برطانیہ لایا گیا تا کہ اس کا علاج کیا جا سکے۔آرنود وابمو ہیرفیلڈ ہسپتال میں زیر علاج رہا جہاں اس کا آٹھ گھنٹے طویل آپریشن کیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران آنجہانی شہزادی ڈیانا تمام وقت موجود رہیں۔ آرنود وابمو جب اپنے مرض سے صحت یاب ہوا تو لیڈی ڈیانا نے اس سے اپنے محل میں بھی ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر ایک تصویر بھی کھینچی گئی جس میں لیڈی ڈیانا نے آرنود وابمو کو گود میں اٹھایا ہوا ہے۔ صحت یابی کے بعد آرنود وابمو کو واپس کیمرون بھیج دیا گیا تھا۔ اگلے 18 سال اس نوجوان نے کیمرون میں انتہائی غربت میں گزارے۔تاہم اب ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق آرنود وابمو اب تارک وطن کی حیثیت سے جرمنی میں اپنی زندگی گزار رہا ہے اور دوبارہ برطانیہ میں داخل ہونے کا متمنی ہے۔ آرنود وابمو کا کہنا ہے کہ اگر شہزادی ڈیانا آج زندہ ہوتیں تو اسے کبھی اس حال میں نہ رہنے دیتیں اور اسے فوری برطانیہ بلا لیتیں۔اس نے بتایا کہ وہ شہزادی ڈیانا کی تصویر ہمیشہ اپنے پاس رکھتا ہے اور اسے اپنی والدہ سمجھتا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں آرنود وابمو نے بتایا کہ 2014ء میں اس نے غربت سے تنگ آ کر دوبارہ برطانیہ جانے کا فیصلہ کیا اور کٹھن سفر پر نکل پڑا۔ غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہونے کیلئے اس نے سمگلروں کا سہارا لیا اور تقریبا 13 مہینے مشکلات جھیلنے کے بعد بالاخر جرمنی پہنچ گیا جہاں اسے آج کل ایک مہاجر کیمپ میں رکھا گیا ہے۔ اسے امید ہے جب برطانوی عوام کو جب اس کا پتا چلے گا تو وہ ضرور اس کی مدد کیلئے آگے بڑھیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…