ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

خانہ بدوش گھر جہاں دل کرے لے جائیں

datetime 30  دسمبر‬‮  2015 |

عورت اپنے خانہ بدوشوں والے مخصوص لہجے میں بولی کہ غریب لوگ ہیں‘ خانہ بدوش ہیں اور روٹی کیلئے در در بھٹک رہے ہیں۔ نواب صاحب نے اسے کہا کہ اپنے سردار جو تم لوگوں کے گروپ کا کرتا دھرتا ہے اسے صبح میرے پاس بھیجنا۔
عورت امداد لے کر چلی گئی۔ صبح چند خانہ بدوش نواب آف کالاباغ کے دروازے پر کھڑے تھے‘ انہیں چائے پانی پلایاگیا‘ اتنی دیر میں نواب صاحب تشریف لے آئے ۔ ہاں بھائی تم میں کون سردار یا لیڈر ہے جو تمہارے فیصلے کرتاہے ؟؟ایک ادھیڑ عمر کے شخص نے ایک بزرگ کی طرف اشارہ کیا یہ مستان چچا ہیں جو ہمارے سردار ہیں۔
نواب صاحب ا س سے مخاطب ہوئے کیوں بھائی یہ خانہ بدوشی کیوں نہیں چھو ڑدیتے؟ سرکار غریب لوگ ہیں نہ زمین ہے نہ گھر اور نہ ہی پیسہ بس اسی طرح چلتے چلتے ہماری زندگی گزر جاتی ہے۔ نواب صاحب نے چند لمحے توقف کے بعد کہا اگر تم لوگوں کو گھرکے ساتھ ساتھ زمین بھی مل جائے اور ساتھ کام کرنے کو بھی تو؟ خانہ بدوش یکبارگی بولے ‘بڑی مہربانی ہوگی سرکار‘ اگر ایسا کر دیں تو۔۔۔ قصہ مختصر نواب صاحب نے25ایکڑ زمین پربنے بنائے گھر اور راشن ان کے حوالے کیا اور کہا کہ اب اس زمین کو کاشت کرو اور یہاں ہی آباد ہوجاؤ۔

nomad-exterior-3-574x430
مشکل سے20دن گزرے ہوں گے کہ تمام خانہ بدوش نواب صاحب کے گھر پہنچ گئے۔ ہم آپ کی تمام چیزیں شکریے کے ساتھ واپس کرنے آئے ہیں۔ ہم جا رہے ہیں۔ نواب صاحب حیران ہوئے !!! آخر کہاں جا رہے ہو ؟؟ مستانہ چاچا بولا’’سرکار ہم زندگی میں اتنے پریشان کبھی نہیں ہوئے جتنے ان چند دنوں میں ہو گئے‘‘۔ نواب صاحب نے وجہ پوچھی تو مستانہ سادگی سے بولا’’ جناب سب کچھ ملنے کے بعد مستقبل کی فکر پڑی کہ کیا کریں گے؟ کیسے کریں گے؟ کیا کیا مشکلا ت ہوں گی ‘ایک گھر چلانے کی تمام فکریں یکجا ہو گئیں‘ سب پریشان رہنے لگے اور آخر نتیجہ یہ نکلا کہ ہم اپنی زندگی کی طرف لوٹ جائیں‘ہم اس (خانہ بدوش) زندگی میں نہ ماضی سے ناخوش تھے اور نہ ہی مستقبل کی فکر تھی اور یہی سکون اور بے فکری ہمار ی زندگی ہے۔آپ کو زمین جائیداد مبارک اور ہمیں ہماری پرسکون زندگی‘‘۔۔۔ نواب آف کالاباغ یہ بات سن کر حیران رہ گئے اور انہیں اجازت دے دی۔
اگر ہم واقعی حقیقت میں دیکھیں تو یہ دنیا ایک پلیٹ فارم اور ایک کمرہ امتحان سے زیادہ کچھ نہیں تو وہ کوئی پاگل ہی ہوگا جو پلیٹ فارم پر گاڑی یعنی موت کے انتظار میں بیٹھا رہے‘ ٹکٹ یعنی اعمال خریدنے کے بجائے پلیٹ فارم پر گھر تعمیر کرنا شروع کردے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…