باتھ روم میں آپ کو ایک نارمل گھر کے باتھ روم کی طرح ہر طرح کی سہولت میسر ہے ‘اس گھر میں ایک فلٹریشن پلانٹ بھی نصب ہے جو آپ کے لئے پینے کے پانی کو فلٹر کر دیتا ہے۔ سیوریج کا باقاعدہ خیال رکھاگیا ہے۔ یہ گھر انسان دوست ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول دوست بھی ہے۔آئین کینٹ کا کہنا ہے کہ اس ’’خانہ بدوش‘‘ گھر کو اگر آپ دس سے پندرہ فٹ تک لے جائیں تو اس گھر میں دو افرادآسانی سے رہائش پذیر ہو سکتے ہیں۔ ہم نے اس کے ڈیزائن میں مختلف سائز رکھے ہیں اور ہر سائز استعمال کرنے والے لوگوں کیلئے ٹارگٹ گروپ کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا گیا ہے۔
خانہ بدوش گھر کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس کا وزن انتہائی مناسب ہے۔ اس کے وزن کو کم رکھنے کا مقصد ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی ہے اور آئین کینٹ کا ماننا ہے کہ اس گھر کی منتقلی پر بھی گھر کے مالک کو کم کرایہ ادا کرنا پڑے گا۔ گھر میں موجود دوسری منزل پر آپ کا بیڈروم سجایاگیا ہے ۔اس کے ساتھ ایک روشن دان ہے جو آپ کو ایک دم قدرتی ماحول کا حصہ بنا دے گا۔ اب اس گھر کی قیمت کی بات آتی ہے تو وہ قیمت صرف25ہزار سے28ہزار ڈالر ہے۔ گھر کے ساتھ آپ کو تمام اشیاء جن کا ذکر کیا جا چکا ہے ملیں گی۔

یہ مضمون لکھنے سے پہلے اس سے ملتے جلتے بے شمار خیالات میرے ذہن میں بھٹک رہے تھے ان میں سے ایک آپ کی خدمت میں مختصر بیان کر رہا ہوں نواب آف کالاباغ اور ان کی بارعب شخصیت سے ہر کوئی واقف ہے۔ نواب صاحب خدا ترسی اور غریبوں کی امداد بھی کھلے دل سے کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ان کے علاقہ میں ایک خانہ بدوشوں کا گروہ آیا‘ ڈیرے ڈالے اور شام ڈھلتے ہی ان کی عورتیں علاقے میں پھیل گئیں اور لوگوں سے اناج کے لئے سوال کرنے لگیں۔ ایک عورت نواب صاحب کے در پر اپنے دو بچوں کے ساتھ کھڑی تھی کہ نواب صاحب باہر سے تشریف لے آئے۔ عورت کو دیکھتے ہوئے بولے’’ بی بی تمہیں کبھی پہلے یہاں نہیں دیکھا‘ تم کون ہو اور کہاں سے آئی ہو‘‘۔



















































